کیا جنت حقیقی ہے؟

جو کریوز

کیا یہ اصلی ہے؟

 اصل منصُوبے کی طرف واپس

گوشت اور ہڈی کے جسم

ہم ایک دوسرے کو پہچانیں گے

شہر پناہ اور دارالحکومت

نہ کوئی بیماری اور نہ مَوت

ناقابل تصور خوبصُورتی اور خوشی

کیا یہ اصلی ہے؟

اگرچہ مختلف وجوہات کی بناء پر، لاکھوں لوگ ایسے وقت کی توقع کر رہے ہیں جب وہ اس سیارے کو چھوڑ کر خلا میں ایک اور دلکش و عمدہ ، کم آبادی والی دُنیا میں ہجرت کر سکتے ہیں۔ زیادہ تر لوگوں کا خیال ہے کہ اس بھیڑ بھرے ، آلودہ سیارے کا وقت ختم ہو رہا ہے جس کا 6,000 سالوں سے غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔لوگ صرف اپنی بقا کے مقاصد کے حصول کے لیے،وہ ایک گردش کرنے والے سیٹلائٹ میں جانے کی امید کرتے ہیں، جسے فیل پروف ٹیکنالوجی کے ذریعے سائنسی طور پر محفوظ بنایا گیا ہو۔ وہاں وہ ، ایک مصنوعی طور پر پائیدار، دوستانہ ماحول میں، بے چین زمینی باسیوں کے لیے ایک نئی خلائی دُنیا کے علمبردار بننے کی امید کرتے ہیں۔
لاکھوں دیگر لوگ آسمان کی طرف دیکھتے ہیں اور ہمارے نظام شمسی کے کناروں سے کہیں زیادہُ دور خلائی سفر کے لیے اپنے دلچسپ منصوبے بناتے ہیں۔اُن کی توقعات لیبارٹری کے مناظر اور ری سائیکل شدہ کیمیکلز کی سائنسی پیداوار پر مبنی نہیں ہیں۔وہ ایک خلائی گھر تلاش کرتے ہیں جو انسانی غلطی اور اثر و رسوخ سے مکمل طور پر آزاد ہو۔ غرور، خود غرضی اور گناہ سے پاک پناہ گاہ ؛ ایک ایسا گھر جسے جنت کہتے ہیں، جس کے بارے میں اُن کا خیال ہے کہ اب اُن کی تیاری جاری ہے۔ وہ توقع کرتے ہیں کہ سفید لباس میں ملبّوس سائنسدان اپنی سیٹلائٹ کالونی تیار کرنے سے بہت پہلے وہاں کا سفر کریں گے۔

ان لوگوں کے ساتھ ہمدردی کرنا آسان ہے جو کرہ ارض کے پریشان کن مسائل سے تنگ آچکے ہیں ۔ا ور کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو مزید خوشگوار ماحول میں ہجرت کرنا چاہتے ہی۔لیکن کیا خود ساختہ خلائی کالونی میں مصنوعی حالات ہماری بوسیدہ زمین سے بہت زیادہ بہتر ہوں گے؟ یہ درُست ہے کہ کیمیاوی ماحول کو زیادہ آسانی سے منظم اور برقرار رکھا جا سکتا ہے، لیکن ہمیشہ کی زِندگی کے بنیادی، اورحتمی مسائل کے بارے میں کیا خیال ہے؟
خلا میں مَوت اور بیماری سے اس سے زیادہ بچا نہیں جا سکتا جتنا وہ یہاں کر سکتے ہیں۔جرم اور ناانصافی انسانوں کا پیچھا کرے گی کائنات میں وہ جہاں بھی سفر کرے گا۔ مایوسیاں اور دل ہلا دینے والا دُکھ انسانی وجود کی مختصرمسافت کو نشان زد کرتا رہے گا، صرف اس لیے کہ اِنسان کا سب سے بڑا مسئلہ بذاتِ خود انسان ہے۔ وہ کسی دُوسرے مقام پر بھاگ کر اپنی خودغرضی کو نہیں چھوڑ سکتا، چاہے یہاں تک کہ دُوسرے سیارے تک۔ نہ ہی وہ ماحول بدل کر اپنی موت سے بچ سکتا ہے۔
اِنسان کو درحقیقت جس چیز کی ضرورت ہے وہ بالکل مربوط ہے، بے گناہ فطرت ہے جو بیماری یا مَوت کا شکار نہیں ہوگی، نیز ایک بہترین ماحول جس میں اُسے ہمیشہ کے لیے جینا ہے۔ ایسا مثالی انتظام صرف وہی ہے جو تمام مسائل کو حل کرے گا اور آج دُنیا میں مقیم تمام لوگوں کے تمام خوابوں کو پورا کرے گا۔ کامل صحت، ایک خوبصورت گھر، ایک مثالی آب و ہوا، اور اَبدی زندگی—اِس کے علاوہ بھلا اور کوئی کیا اُمید کر سکتا ہے؟

کیا یہ تمام ناقابل یقین حالات کبھی حقیقت بن سکتے ہیں؟ سائنسدانوں کا مانناہے کہ نہیں۔ہاں وہ بہتر صحت اور لمبی عمر کا وعدہ کر سکتے ہیں، لیکن ہمیشہ کی زِندگی کا ہر گز نہیں۔ وہ صاف ستھری آب و ہوا اور کام کے لیے ساز کار ماحول کی توقع کر سکتے ہیں،لیکن جراثیم سے پاک ماحول کی نہیں۔یہی سب سے بہتر ہے جو وہ کر سکتے ہیں۔لیکن سنو، اب ایک جگہ اپنی تیاری کے مراحل میں ہے جو اِن تمام فضول الفاظ سے بڑھ کر ہوگی جو مَیں نے اِسے بیان کرنے میں استعمال کیے ہیں۔ زیادہ تر سائنس دان اس کے وجود سے انکار کرتے ہیں، کیونکہ وہ یہ نہیں مانتے کہ ایک خُدا ہے جواُوپرآسمان میں رہتاہے جسے فردوس کہتے ہیں۔

دوئم
اصل منصُوبے کی طرف واپس

میں چاہتا ہوں کہ آپ دیکھیں کہ یہ مستقبل کا گھر جو اَب ہمارے لیے تیار کیا جا رہا ہے درحقیقت اِنسان کی کامل خوشی کے لیے خُدا کے اصل منصوبے کو پورا کرے گا۔ یہ اُس شاندار خوبصورتی اور شان سے مماثل ہوگا جسے خُدا نے باغ عدن میں شامل کیا تھا۔ یسعیاہ نبی نے اِس کو یوں بیان کیا :"کیونکہ اِبتدا ہی سے نہ کِسی نے سُنا نہ کِسی کے کان تک پُہنچا اور نہ آنکھوں نے تیرے سِوا اَیسے خُدا کو دیکھا جو اپنے انتظار کرنے والے کے لیے کچھ کر دِکھائے۔"(یسعیاہ ۴:۶۴)

یہاں نبی اعلان کرتا ہے کہ "دُنیا کے آغاز سے" بنی نوع ِ اِنسان نے خُدا کے منصوبے کی تکمیل کو نہ تو سنا ہے اور نہ ہی دیکھا ہے۔ اطلاع واضح ہے- اِنسانوں نے ایک بار دیکھا، سنا، اور اُن حیرت انگیز چیزوں کے بارے میں جان لیا جو خُدا نے اپنے لوگوں کے لیے تیار کی ہیں۔ درحقیقت، وہ منصوبہ آدم اور حوّا پر پوری شان و شوکت کے ساتھ ظاہر کیا گیا تھا۔ خُدا چاہتا تھا کہ زمینی عدن، خُداوند کے باغ کی طرح ہو۔ اُس نے ہمارے پہلے والدین کو چار زبردست تحفے دیے—زندگی، ایک کامل کردار، ایک خوبصورت گھر، اور زمین پر اختیار ۔ وہ صرف ایک ممنوعہ درخت کے معاملے میں خُدا کی فرمانبرداری کرنے کا انتخاب کر کے ان تحفوں کو ہمیشہ کے لیے اپنے پاس رکھ سکتے تھے۔ اپنی مرضی کی فرمانبرداری کے ذریعے، خُدا نے انسانی خاندان کو مثالی اور اَبدی طور پر خوش کرنے کا ارادہ کیا۔
فرشتے یقینا ً روئے ہوں گے جب اُنہوں نے پہلی بار گُناہ کو اِنسانی خاندان میں آتے دیکھا۔ فوری طور پر، اِن تمام اصل فراہم کردہ مراعات کو واپس لینا شروع ہو گیا۔ آدم اور حوّا خُدا کے حُکم کے مطابق مرنے لگے۔ اُس وقت اُن کی حکومت چھن کر شیطان کے ہاتھ میں چلی گئی۔ راستبازی کی شبیہ اُن کے اندرخراب ہو گئی تھی۔ اور اُنہیں باغ عدن کے گھر سے نکال دیا گیا۔ بائبل مُقدّس کے پہلے تین ابواب اس بہت بڑے نقصان کی تصویر پیش کرتے ہیں۔ گُناہ کا داخلی راستہ اور اِنسان کے زوال کی کہانی پیدائش 1، 2 اور 3 ابواب میں تصویری طور پر بیان کی گئی ہے۔ لیکن بائبل مُقدّس کے آخری تین ابواب تمام چیزوں کی بحالی کے بارے میں بتاتے ہوئے اس کے بالکل برعکس تصویر کشی کرتے ہیں۔ گُناہ اور شیطان کا نکلنا، اور لعنت کا خاتمہ( مکاشفہ ۲۲:۲۰ )میں دِکھایا گیا ہے۔

اَب میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ راست بازوں کا گھر یہیں اِسی زمین پر دوبارہ بننے والا ہے۔ یسُوع مسیح ہمیں متی ۵:۵ میں یہ فرماتےہیں ۔ جہاں مُبارک بادیاں پیش کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا: "مبارک ہیں وہ جو حلیم ہیں کیونکہ وہ زمین کے وارث ہوں گے۔" اِسے اچھی طرح یاد کر لیں۔ خُدا کے لوگ آخرکار اِس خوبصورت دُنیا میں بسیں گے، جیسا کہ آج ہے، لیکن جیسا کہ یہ مقدسوں کے لیے تیار کیا جائے گا۔
جب آپ اس کے بارے میں سوچتے ہیں تو یہ واقعی قُدرتی ہے۔ خُدا نے اپنے بچوں کے لے یہاں رہنے کا منصوبہ بنایا جب اُس نے دُنیا کوخلق کیا۔ اس نے ہمارے پہلے والدین کو بغیر کسی داغ یا جُھری کے جنت میں رکھا۔ اَب یہ سچ ہے کہ پھر شیطان اِس منظر نامہ میں آیا اور خُدا کے منصوبے میں خلل ڈالا، لیکن اُس نے اِس منصوبے کو نہیں بدلا۔ خُدا آخر کار اپنے عظیم اصل مقصد کو پُورا کرے گا جیسا کہ باغِ عدن میں ظاہر کیا گیا تھا۔ وہ اس زمین کو اس کی پہلی سلطنت میں بحال کرے گا۔ وہ اسے پھر سے بے گناہ اور کامل بنا دے گا، اور اس کے لوگ یہاں عدن کی بحال شدہ خوبصُورتی میں بسے رہیں گے۔ آج بدکاروں کے پاس راست باز لوگوں سے زیادہ زمین ہے، اور میرا خیال ہے کہ مالیاتی کمپنیوں کے پاس دونوں گروہوں سے بھی زیادہ بہتات میں ہے ۔لیکن خُدا کہتا ہے، کہ ایک دِن مقدسین زمین کے وارث ہوں گے۔
یقیناً کوئی نہیں چاہے گا کہ زمین اپنی اِسی موجودہ حالت میں رہے، کیونکہ یہ اَب کافی گڑبڑ ہے۔ہم خُداوند کا شکر ادا کر سکتے ہیں کہ جب خُدا ہمیں یہ دُنیا واپس دے گا تو یہ موجودہ زمِین سے بالکل مختلف ہوگی جو آج ہم اپنے ارد گرد دیکھتے ہیں۔ یسعیاہ ۱۷:۶۵ میں ہم یہ خوبصورت عبارت پڑھتے ہیں:،"دیکھو، میں نئے آسمان اور نئی زمین کو تخلیق کرتا ہوںاور پہلی چیزوں کا

پِھر ذکر نہ ہو گا اور وہ خیال میں نہ آئیں۔" یہ پرانے عہد نامے کا بیان ہے، لیکن نئے عہد نامے کی طرف رجوع کریں اور آپ مکاشفہ ۱:۲۱ میں وہی بات پڑھیں گے: "پِھر مَیں نے ایک نئے آسمان اور نئی زمِین کو دیکھا کیونکہ پہلا آسمان اور پہلی زمِین جاتی رہی ۔"
ہماری یہ پرانی خون آلود ہ دُنیا مکمل طور پر بدل دی جائے گی، اور گُناہ کے تمام داغ ہمیشہ کے لیے مٹ جائیں گے۔پطرس رسول ذیل کے الفاظ میں یوں بیان کرتا ہے: "لیکن اُس کے وعدے کے مُوافق ہم نئے آسمان اور نئی زمِین کا انتظار کرتے ہیں جِن میں راست بازی بسی رہے گی ۔:" (۲۔ پطرس ۱۳:۳ ) ۔مَیں ایسَی دُنیا چاہتا ہوں—ایک ایسی دُنیا جس میں راستبازی بسی ہو! خُدا ایک بار پھر ایک پاک، اور بے داغ سیارہ حاصل کرنے والا ہے۔سنو، اگر کوئی شخص وہاں رہنے کا موقع حاصل کرنے میں غفلت کرے تو وہ اپنی زندگی کی سب سے بڑی غلطی کا ۔ مرتکب ہو جائے گا!یہ سب سے المناک غلطی ہے جو شاید کوئی کر سکتا ہے۔ خُدا ہماری مدد کرے کہ ہم بغیر کسی ناکامی کے اِس گھر کو ایک شاندار یقین دہانی بنا سکیں۔
یہ کتنی چونکا دینے والی بات ہے کہ کتنے لوگوں نے آسمان کے بارے میں کمزور اور بٹے ہوئے تصورات کو قبول کیا ہوا ہے۔ زیادہ تر لوگ اُسے آسمانی جگہ سے بہت دُور سمجھتے ہیں — اور یہ آسمان کے بارے میں تمام اوسط آدمی جانتا ہے۔ اس کا خیال ہے کہ یہ کہیں "اوپر" ہے۔ جی ہاں، یہ "وہاں پر" ہے اور ہم اس سے اتنی دُور تک اتفاق کر سکتے ہیں، کیونکہ جب یسُوع نے صعود فرمایا ، وہ اُوپر آسمان میں گیا ۔ "یہ کہہ کر وہ اُن کے دیکھتے دیکھتے اُوپر اُٹھا لیا گیا اور بدلی نے اُسے اُن کی نظروں سے چُھپا لیا۔" (اعمال۹:۱)۔ اور اُس نے کہا: "میرے باپ کے گھر میں بُہت سے مکان ہیں ۔ اگر نہ ہوتے تو مَیں تُم سے کہہ دیتا کیونکہ مَیں

جاتا ہوں تاکہ تُمھارے واسطے جگہ تیار کروں ۔ اور اگر مَیں جا کر تُمہارے لیے جگہ تیار کروں تو پھر آکر تُمھیں اپنے ساتھ لے لوں گا تاکہ جہاں مَیں ہُوں تُم بھی ہو ۔" (یوحنا۳،۲:۱۴)۔
کچھ لوگ جنت میں نہیں جانا چاہتے ہیں اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ وہ نہیں جانتے کہ یہ کیسی ہوگی۔ پھر یہ بھی ہو سکتا ہے آپ کو کوئی ایسا شخص مل جائے جو آپ کو صاف صاف بتا دے کہ اسے جنت میں جانے کی بالکل پرواہ نہیں ۔ لیکن اِس کی وجہ صرف یہ ہے کہ وہ جنت کے بارے میں غلط فہمی کا شکار ہے۔ مشہور افسانہ نگاروں نے جنت کو مدھم اور غیر دلچسپ بنا دیا ہے۔
جنت کے بارے میں سچائی اِسے انتہائی دلچسپ مقامات میں سے ایک کے طور پر پیش کرتی ہے۔اِس مستقبل کی جلالی سرزمین کا دارالحکومت نیا یروشلم کہلاتا ہے، اور یہ فی الحال یسُوع مسیح اور پَولُس رسُول کی شہادت کے مطابق زیر تعمیر ہے۔ اِس کا احاطہ ورجینیا، ڈسٹرکٹ آف کولمبیا، پنسلوانیا، نیو جرسی، اور رہوڈ آئی لینڈ کے مشترکہ علاقوں سے کہیں زیادہ ہو گا۔ اگر آپ کو یہ ناقابل یقین لگتا ہے، تو میری بات پر نہ جائیں۔ یہاں یہ بائبل مُقدّس میں مرقوم ہے: "مگر حقیقت میں وہ ایک بِہتر یعنی آسمانی مُلک کے مُشتاق تھے۔ اِسی لیے خُدا اُن سے یعنی اُن کا خُدا کہلانے سے شرمایا نہیں چنانچہ اُس نے اُن کے لیے ایک شہر تیار کیا ہے۔" ( عبرانیوں ۱۶:۱۱ )۔ یہاں ہمیں بتایا گیا ہے کہ خُدا اپنے لوگوں کے لیے ایک شہر تیار کر رہا ہے۔ اور وہ اب اُس کی تیاری کر رہا ہے۔
اس سے کچھ سوالات اٹھتے ہیں۔ خُدا اپنے وفاداروں کے لیے کس قسم کا شہر بنا رہا ہے؟یہ کہاں تعمیر کیا جارہا ہے؟ (مکاشفہ ۲:۲۱) اِس کا جواب دیتا ہے: "پِھر مَیں نے شہر مُقدّس نئے یروشلیم کو آسمان پر سے خُدا کے پاس سے اُترتے دِکھا اور وہ اُس دُلہن کی مانِند آراستہ تھا جس نے اپنے شوہر کے لیے سنگار کیا ہو ۔"

اس وقت آسمان پر، ستاروں اور سیاروں سے بہت دُور، خُدا آپ کے اور میرے لیے محل تیار کر رہا ہے۔ ایک دِن وہ جھلملاتا ہوا صاف شفاف جلالی شہر زمین پر اُترے گا اور راست باز اُس میں اپنے ابدی گھرکے طور پر آباد ہو ں رہیں گے۔ جب یہ شہر تیار ہو گا تواِس کا رقبہ کتنا بڑا ہوگا؟(مکاشفہ۱۶:۲۱) ہمیں بتاتا ہے: "اَور وہ شہر چوکور واقِع ہُوا تھا اور اُس کی لمبائی چوڑائی کے برابر تھی ۔ اُ س نے شہر کو اُس گز سے ناپا تو بارہ ہزار فرلانگ نِکلا۔ اُس کی لمبائی اور چوڑائی اور اُونچائی برابرتھی۔"
آپ دیکھیں گے کہ شہر بالکل مربع شکل میں ہے اور فریم 12,000 فرلانگ یا 1,500 میل ہے۔ چونکہ ایک فرلانگ ایک میل کا آٹھواں حصہ ہے، اس کا مطلب ہے کہ شہر ہر طرف 375 میل ہے۔ یقین کریں یا نہیں، نیویارک کے 450 شہر اس کی بڑی دیواروں کے اندر رکھے جا سکتے ہیں۔ گلیاں خالص سونے کی ہیں، اور اس کے دروازے خالص موتی ہیں—نہ صرف موتیوں سے بنے ہیں، بلکہ درحقیقت ایک خالص موتی سے بنے ہیں۔ تصور کریں، اگر آپ کر سکتے ہیں، تواِس طول و عرض کا ایک شہر یہیں اس زمین پر ہو۔!

 

گوشت اور ہڈی کے جسم

میں چاہتا ہوں کہ اگر ممکن ہو تو آسمان کی خوبصُورتی ، جلال اوراُس کی حقیقت میں سے کچھ انسانی زبان میں پیش کروں۔ اِسے نشان زد کریں کہ جنت بہت، بہت حقیقی ہے۔ یہ حقیقت اس کی سب سے شاندار صفت ہے۔ ہم حقیقی جسم حاصل کرنے اور حقیقی سرگرمیاں کرنے وہا ں جا رہے ہیں۔ درحقیقت، یسعیاہ 65 میں ہمیں بتایا گیا ہے، "مخلصی پانے والے لوگ وہاں گھر بنائیں گے اور اُن میں بسیں گے وہ تاکستان لگا ئیں گے اور اُن کے میوے کھا ئیں گے؛ نہ کہ وہ بنا ئیں اور دُوسرا بسے ۔ وہ لگا ئیں اور دُوسرا کھا ئے کیونکہ میرے بندوں کے ایّام درخت کے ایّا م کی مانِند ہوں گے اور میرے برگزیدے اپنے ہاتھو ں کے کام سے مُدتوں فا ئدہ اُٹھا ئیں گے۔" (بمقابلہ ۲۱، ۲۲ آیات)۔
اب یہ جان کر آپ کو حیرت ہو سکتے ہیں ، لیکن ہم جنت میں گوشت اور ہڈی کے جسم رکھنے والے ہیں۔ بائبل مُقدّس ہمیں یہی سکھاتی ہے۔ ذیل کے دو نصوص اس نقطہ کو سوال سے بالاتر ثابت کریں گے۔فلپیوں ۲۱:۳ میں ہم یوں پڑھتے ہیں: "اور اپنی اُس قُوّت کی تاثِیر کے مُوافِق جِس سے سب چیزیں اپنے تابع کر سکتا ہے ہماری پَست حالی کے بدن کی شکل بدل کر اپنے جلال کے بدن کی صُورت پر بنا ئے گا۔" یہ جاننا کتنا دلچسپ ہے کہ ہماری موجودہ جسمانی فطرتیں بدل جائیں گی۔ ہمارے پاس ایسے ہی جسم ہوں گے جیسا کہ یسُوع مسیح کے جی اُٹھنے کے بعد اُس کا جلالی بدن تھا۔ یہاں کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کیونکہ یسُوع مسیح نے اپنے شاگردوں کو اس جسم کے بارے میں سب کچھ سمجھا

دیا تھا۔ اُس نے کہا، "میرے ہاتھ اور پاؤں دیکھو کہ میں ہی ہوں، مجھے چُھو کر دیکھو۔ کیونکہ رُوح کے گوشت اور ہڈی نہیں ہوتی جیسا مجھ میں دیکھتے ہو" (لوقا۳۹:۲۴)۔
پہلے، وہ اُن پر ظاہر ہوا اور کہا ، کیونکہ رُوح کے گوشت اور ہڈی نہیں ہوتی ، پھر اُس نے بُھنی ہو ئی مچھلی کو لے کر اُن کے رُوبرُو کھایا۔پھر وہ اُن کے دیکھتے دیکھتے جسمانی طور پر آسمان پر اُٹھا لیا گیا۔ ہمارے خُداوند کی زندگی کے واقعات کا یہ سلسلہ آخرت میں ہماری اپنی فطری حالت سے متعلق بہت سے سوالوں کا جواب دیتا ہے۔ ہمارے پاس ایک ایسا ہی جلالی بدن ہو گا جیسا خُداوند یسُوع مسیح نے اپنے جی اُٹھنے کے بعد حاصل کیا۔

چہارم
ہم ایک دوسرے کو پہچانیں گے

اِس سے ایک اور دلچسپ سوال پیدا ہوتا ہےجس نے لاکھوں لوگوں کو پریشان کر رکھا ہے۔کیا ہم وہاں پر ایک دُوسرے کو جانیں گے؟ کیا ہم آخرت میں ایک دوسرے کو پہچان سکیں گے؟
بہت سے لوگوں کو یہ غلط فہمی ہے کہ جنت بہت غیر شخصی ہوگی۔ بائبل مُقدّس بالکل اِس کے برعکس ظاہر کرتی ہے۔اگرچہ ہماری سابقہ پرمشکلات اور دُکھ درد ہمارے ذہن سے مٹ جائیں گے، لیکن ہم یقیناً اپنے دوستوں اور خاندان والوں کو نہیں بھولیں گے۔ وہاں پر کوئی بھی صرف ایک

متحرک عددکے طور پر نہیں جانا جائے گا! سچ تو یہ ہے کہ ہم ایک دُوسرے کو جنت میں اس سے کہیں بہتر طور پر جانیں گے جتنا ہم ایک دوسرے کو ابھی جانتے ہیں۔پَولُس رسُول نے لکھا، "اَب ہم کو آیئنہ میں دُھندلا سا دِکھائی دیتا ہے مگر اُس وقت رُوبرُو دیکھیں گے: مگر اُس وقت اَیسے طور پر پہچانُوں گا جَیسے مَیں پہچانا گیا ہوں۔" ( ۱۔ کرنتھیوں۱۲:۱۳)۔ اگر میں انگریزی زبان کو بالکل بھی سمجھتا ہوں، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جب ہم وہاں جائیں گے تو ہم ایک دُوسرے کو یہاں سے بہتر طور پر جانیں گے۔ ہم یہاں چیزوں کو بہت دُھندلا دیکھتے ہیں، اور ہم اکثر ایک دوسرے کو غلط سمجھتے ہیں۔ نئی زمین میں ایسا کبھی نہیں ہوگا۔ ہم ایک دوسرے کو واضح اور صاف طور پر جانیں گے۔
یسُوع مسیح نے کہا ، " اور مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ بُہتیرے پُورب اور پچھّم سے آکر ا برہاؔم اور اضحاؔق اور یعقوؔب کے ساتھ آسمان کی بادشاہی کی ضیافت میں شریک ہوں گے۔" ( متی ۱۱:۸) یقیناً یہ اِس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ہم عہدِعتیق کے اُن عظیم آبا ئی بزرگوں ا و رانبیاء کو رُوبرُوپہچانیں گے۔ نہ صرف ہم اُن لوگوں کے ساتھ ہمیشہ کے لیے اکٹھے رہیں گے جن سے ہم زمین پر پیار کرتے تھے، بلکہ ہم اُن بہادر رُوحانی سُورما وں سے آشنا ہو سکتے ہیں جن کی بابت ہم بائبل مُقدّس کے اَوراق میں پڑھ کر متاثر ہو ئے۔
زیادہ تر لوگ اپنوں سے دوبارہ ملاپ کرنے اور گھر واپسی کو پسند کرتے ہیں۔کئی سالوں کے بعد پرانے دوست احباب سے ملنا اور ماضی کی پرانی یادوں کی تجدید کرنا کتنی خوشی کی بات ہے۔ اگر وہاں کوئی کسی کو نہیں پہچانتا تو آسمان خُوشی و خُرمی کی جگہ نہیں ہوگا۔مَیں نے ہزاروںلوگوں کو مسیح کے پاس لانے میں مسرت حاصل کی ہے اور میں خُدا کے تخت کے گرد اُن سے ملنے کی متمنی ہوں۔ یہ ناقابل تصور ہے کہ مجھے کبھی بھی بے یقینی ہو کہ اُن میں

سے ایک بھی جان جو آخر تک وفادار رہی اور زندگی کا تاج حاصل نہ کرے۔ ہم بلاشبہ وہاں ایسے لوگوں سے ملیں گے جو مسیح کے لیے جیت گئے تھے، اور جن کے وسیلہ سے ہم جیتے گئے، اور ہم اثر و رسوخ کے لامتناہی دَور کو دیکھ سکیں گے کیونکہ یہ دِل سے دِل تک اور زِندگی سے زِندگی تک دھڑکتا ہے۔
آپ تصور نہیں کر سکتےاُس دِن کوئی آپ کو لرزتی ہو ئی آواز میں کہے، "یہ آپ ہی تھے جنہوں نے مجھے پوری طرح سے یسُوع کی پیروی کرنے کے لیے متاثر کیا۔ شکریہ! اوہ، میرے لیے یہاں آنا ممکن بنانے کے لیے آپ کا شکریہ"؟ یقیناً یہ رُوح کےجیتنےوالےکے لیے انعام کا ایک بڑا حصہ ہوگا۔
پَولُس رسُول نے فلپیوں کو لکھا، "اور اَے سچے ہم خدمت ! تُجھ سے بھی درخواست کرتا ہُوں کہ ےتُو اُن عَورتوں کی مدد کر کیونکہ اُنہوں نے میر ے ساتھ خُوشخبری پھیلانے میں کلیمینس اور میرے اُن باقی ہم خدمتوں سمیت جانفشانی کی جِن کے نام کِتاب حیات میں درج ہیں۔" ( فلپیوں ۳:۴)۔ یہاں بہت دلچسپ شہادت مرقوم ہے کہ زمینی نام آسمانی کتابوں میں درج ہیں۔ اس بات پر یقین کرنے کایہ جواز نہیں ہے کہ پَولُس رسُول کے ساتھ ان وفادار کارگزاروںکو اِیمان لانے کے بعدکسی قسم کے نئے، فرشتوں جیسے نام ملے۔ وہی نام کتاب ِ حیات میں لکھے گئے تھے جو ان کی عبرانی ماؤں نے رکھے تھے۔ یوحنا ، شمعون ، یعقوب، توما، اوراندریاس ایمانداری سے یسُوع مسیح پر ایمان کے وسیلہ ابدی زندگی کے لائق ہونے کے طور پر درج ہیں ۔
ہمیں مکاشفہ کی کتاب میں اِس موضوع پر ایک اور ا ٓگاہی ملتی ہے۔یوحنار سُول کو اپنی ایک رویا میں نئے یروشلیم کا جلال دِکھایا گیاتھا۔ یہ اتنا دلکش اور درخشاں تھا کہ نبی اس کے جلال سے تقریباً مغلوب ہو گیا۔ جیسے ہی وہ اپنی رویا میں چمکتی ہوئی دیواروں کے قریب پہنچا، یوحنا نے دیکھا کہ شہر کی بنیاد

اُن 12 قیمتی پتھروں پر مشتمل تھیں، جو مختلف رنگوں کےتھے۔ پھر اس نے دیکھا کہ ہر ایک چمکتے ہوئے قیمتی سنگ بنیاد پر ایک نام لکھا ہوا تھا۔ اس وقت اس کے احساسات کا تصور کریں جب اس نے ان پتھروں میں سے ایک پر اپنا نام پہچانا! نئے یروشلم کے بڑے بنیادی پتھروں میں ان کے سادہ عبرانی ناموں کو کندہ کر کے تمام رسُولوں کو ہمیشہ کے لیے عزت دی جائے گی۔ یوحنا کے لیے یہ کیسا سنسنی خیز رہا ہو گا!
ہزار سال کے اختتام پر نیا یروشلیم اس زمین پر اُ ترنے کے بعد، زمین کو اپنی اصلی، کامل حالت میں دوبارہ تخلیق کیا جائے گا۔ خُد ا کا خیمہ آدمیوں کے درمیان ہوگا اور وہ اُن کےساتھ سکونت کرے گا ، اور راست باز اُس شہریروشلیم اور نئی سر زمین دونوں میں سکونت کریں گے۔نیا یروشلیم ہماری پناہ گاہ اور اور اِس دُنیا کا دارالحکومت ہوگا۔ نئے یروشلیم میں محلات ابھی یسُوع مسیح کے ذریعہ تیار کیے جا رہے ہیں۔ (یوحنا ۱۴ باب ۱ تا ۳ آیات)۔ہم وہاں گھر بنائیں گے اور اُن میں بسیں گے ۔( یسعیاہ ۲۲،۲۱:۶۵)

پنجم
شہر پناہ اور دارالحکومت

کیا ہم اس گھر سے مطمئن ہوں گے جو یسُوع ہمارے لیے تیار کررہا ہے؟ اُس نے "کہا کیونکہ مَیں جاتا ہوں تاکہ تُمہارے لیے جگہ تیار کروں۔" مَیں کس کے لیے جگہ تیار کرنے جاتا ہوں؟ آپ کے لیے!اگر آپ

چاہیں تو وہاں اپنا نام لکھ سکتے ہیں، کیونکہ یہ سچ ہے۔ وہ آپ کے لیے ایک جگہ تیار کرنے گیا ہے، اور اِس پر آپ کا نام لکھا جائے گا۔ مجھے یہ پسند ہے، کیونکہ خُداوند ایک عظیم معمار ہے جو یقیناً جانتا ہے کہ میری بہترین پسند کیا ہے۔
میرا اِیمان ہے کہ خُداوند ہم میں سے ہر ایک سے مُلاقات کرے گا اور ہمیں اُس نئے مُقدّس شہر پناہ کی سیر کرائےگا۔ وہ ہمیں نئے یروشلم میں دلچسپی کے تمام مختلف مقامات دکھانے کے لیے ان سونے کی سڑکوں پرلے جائے گا۔ ہم زندگی کے دریا کے ساتھ ساتھ چلیں گے، اور وہ ہم سبھی کو حیات کے درخت کے بارے میں بتائے گا، جو دریا کے وارپار اگتا ہے اور ہر مہینے مختلف قسم کےپھل دیتا ہے۔ وہ ہمیں ایک کے بعد ایک گلی میں لے جائے گا، اور آخر کار، جیسے جیسے ہم آگے بڑھیں گے، ہم ایک مخصوص محل کو دیکھیں گے۔ جیسے ہی ہم اُسے دیکھیں گے، ہمارے دلوں میں جوابی خوبصورت راگ پیدا ہوگا اور ہم سوچیں گے، "میرا ہے ، میں ہمیشہ سے یہی چاہتا تھا۔ یہ اس قسم کا محل ہے جسے میں رکھنا چاہتا ہوں!" اور یسُوع ہماری خواہشات وخیالات کو جانتے ہو ئے کہے گا، "یہ تمہارا ہے۔ میں نے اسے بالکل اسی طرح تیار کیا ہے جیسا کہ میں جانتا تھا کہ آپ اِسے چاہیں گے۔ یہ خاص طور پر آپ کے لیے ہے۔"
اس کے علاوہ، ہم اُس ملک میں اپنا خود کا ایک اپنا گھر بنانے کے قابل ہو جائیں گے۔ یاد ہے کہ یسعیاہ نے وعدہ کیا تھا کہ ہم گھر بنائیں گے اور ان میں بسیں گے۔ہم اپنی رہاش کے لیے جگہ کا خود انتخاب کر سکتے ہیں۔ ہمارے سامنے پوری خوبصورت نئی دُنیا موجود ہو گی، اور ہم سب سے بہترین جگہ تلاش کر سکتے ہیں جو ہماری اپنی شخصیت کے مطابق ہو اور وہیں اپنا گھر بنائیں۔ میں کبھی کبھی اپنی آنکھیں بند کرتا ہوں اور کسی ایسی جگہ کے بارے میں سوچنے کی کوشش کرتا

ہوں جو مجھے خوش کردے، اور پھرمیں ان میں سے بہت سے لوگوں کے بارے میں سوچ سکتا ہوں جو مجھے خوش کریں گے، وہاں گناہ کا وجود نہیں ہو گا، کیونکہ زمین پر پھر لعنت نہیں ہو گی۔ ہم کبھی چوروں سے پریشان نہیں ہوں گے اور نہ ہی گھر کو آگ لگائیں گے۔ میں نے ان غریبوں سے بات چیت کی ہے جن کے گھر جلا د ئےگئے اوران کا سارا مال متاع تباہ کر دیا ہے۔ اور بہتیرے ایسے لوگ جن کی زندگی کی جمع پونجی ڈاکووں اور چوروں نے ہتھیا لی۔
کوئی کہتا ہے، "ٹھیک ہے، مجھے تو تعمیر کرنا نہیں آتا۔ مجھے نہیں لگتا کہ میں گھر بنانا چاہتا ہوں۔" سنو، یہ مت سوچو کہ وہاںاس قسم کی مشقت کا کام ہوگا جو تم اِس دُنیا میں غریب بڑھئیوں کو کرتے ہوئے دیکھتے ہو۔ نہیں ایسا ہر گز نہیں ہو گا۔ جہاں تک تعمیر کے بارے میں آپ کا علم ہے، اس کے بارے میں ایک لمحے کے لیے بھی فکر نہ کریں۔ آپ جو کچھ سیکھ سکتے ہیں اس کی کوئی حد نہیں ہوگی۔ سیکھنے اور سمجھنے کے لیے آپ کے پاس پوری اَبدیت ہوگی۔ اگر آپ موسیقی کے بارے میں کچھ نہیں جانتے تو موسیقی کا کورس کریں۔ آسمانی کوائر میں شامل ہوں۔ آپ ایک دن بانسلی سیکشن میں جا سکتے ہیں اور بانسلی کے ساتھ گانا سیکھ سکتے ہیں، اور پھر آپ موسیقی سیکشن میں جا کر بھاری مردانہ آواز میں گا سکتے ہیں۔ وہاں پر آپ تمام حصے گا سکتے ہیں اور موسیقی کے بارے میں اتنا ہی سیکھ سکتے ہیں جتنا آپ سیکھنا چاہتے ہیں۔
آپ فن تعمیر کا ہنرسیکھ سکتے ہیں۔ آپ تعمیر کرنا سیکھ سکتے ہیں۔ آپ فطرت کے بارے میں جان سکتے ہیں۔ یا شاید آپ فلکیات کا مطالعہ کرنا چاہتے ہیں۔ کبھی کبھی ، جب ہم آسمانوں کی طرف آنکھیں اُٹھا تےہیں اور جنوب مغرب میں ایک چھوٹا سا پیلے رنگ کا ستارہ چمکتے ہوئے دیکھتے ہیں ، تو ہم کہتے ہیں ،

"میرے خُدایا!، میں حیران ہوں کہ وہ چھوٹا سا ستارہ وہاں کیا ہے؟" سنو، ہمیں حیران ہونے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ہم صرف یہ کہہ سکتے ہیں، "میرا خیال ہے کہ میں کسی دِن جا کر معلوم کروں گا۔" پھر ہم اس ستارے کا دَورہ کر سکتے ہیں۔ وہ کیا ہے۔ نئی زمین کچھ اِس طرح کی ہوگی۔ہم روشنی کی رفتار سے سفر کر سکتے ہیں۔ فرشتے اَب ایسا کر سکتے ہیں۔ دانی ایل نے ایک دِن دُعا شروع کی، اور اس سے پہلے کہ وہ اپنی دعا ختم کرتا، ایک فرشتہ آسمان یعنی خُدا کے تخت سے اس کی طرف آیا۔ فرشتے نے کہاِ "تیری مُناجات کے شروع ہی میں حُکم صادر ہُوا اور میں آیا ہُو ں کہ تُجھے بتاوں، کیونکہ تُو بہت عزیز ہے۔" ہم اس طرح سفر کر سکیں گے۔ ہم خُدا کی عظیم، وسیع کائنات کی سیر کے لیے باہر جا سکیں گے اور ان چیزوں کو سمجھ سکیں گے جن کو اس سے پہلے کوئی انسانی ذہن نہیں سمجھ سکا۔
اکثر لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا جنت میں جانور ہوں گے؟ بائبل مُقدّس میں اس سوال کے حوالے سے حیران کن تعداد موجود ہے۔ پالتو جانوروں سے محبت کرنے والوں کا وہاں سیاحت یعنی سیرو تفریح کادِن ہوگا! "پس بھیڑیا برّہ کے ساتھ رہے گا اور چیتا بکر ی کے بچے ّ کےساتھ بَیٹھے گا اور بچھڑا اور شیر بچہّ اور پلا ہُوا بَیل مِل جُل کر رہیں گے اور ننّھا بچّہ اُن کی پیش روی کرے گا۔ گا ئے اور رِیچھنی مِل کر چریں گی ۔ اُن کے بچےّ اکٹھے بیٹھیں گے اور شیر ببر بَیل کی طرح بُھوسا کھا ئے گا۔ اور دودھ پیتابچہّ سانپ کے بِل کے پاس کھیلے گا۔ اوروہ لڑکا جِس کا دُودھ چُھڑایا گیا ہو افعی کے بِل میں ہاتھ ڈالے گا۔ وہ میرے تمام کوہِ مُقدّس پر نہ ضررپُہنچائیں گے نہ ہلاک کریں گے کیونکہ جس طرح سمُندر پانی سے بھرا ہے اُسی طرح زمِین خُداوند کے عرفان سے معمُور ہوگی۔" ( یسعیاہ ۱۱ باب ۶ تا ۹ آیات)۔

کبھی کبھی ہم پالتوشیروں کے بارے میں کہانیاں سُنتے ہیں اور بچوں کو اپنی پیٹھ پر کھیلنے کی اجازت دیتے ہیں۔ اکثر و بیشتر، ہم نے گھریلو یعنی پالتو جانوروں کی کہانیاں پڑھی ہیں جو اچانک بچوں پر حملہ آور ہو جاتے ہیں اور جنگلی جانوروں کی طرح اُن پر حملہ کرتے ہیں۔
گناہ کی تباہ کاریوں نے حیوانی فطرت کو انتہائی طور پر غیر متوقع بنا دیا ہے۔ لیکن خُدا کے بحال شدہ عدن میں شیروں، چیتے، ریچھوں، یا سانپوں سے تشدد کا بالکل کوئی خطرہ نہیں ہوگا — زمین کے پیارے پالتو جانوروں سے بہت کم۔
اِس دُنیا میں، تمام تخلیق شدہ ذی حیات کو کسی بھی وقت حملے کے خلاف چوکنا رہنا پڑتا ہے۔ دانتوں اور پنجوں کے راج نے جانوروں کی بادشاہی میں مسلسل خوف کی فضا پیدا کردی ہے۔ پرندے کبھی بھی آرام دہ نہیں لگتےکیونکہ ممکنہ حملہ آوروں کو دیکھتے ہو ئےاُن کے سر ، دائیں بائیں گھومتے ہیں۔
افسوسناک طور پر، یہ صرف اُسی بحال شدہ جنت میں ممکن ہوگا کہ ہم اپنے ساتھی ہمجنسوں کے مجرمانہ تشدد سے محفوظ رہ سکیں گے اور پُر سکون زندگی بسر کریں گے۔عدن کے بعد پہلی بار اِنسان دوسرے اِنسانوں یعنی اپنے ہم جنسوں پر بھروسہ کر سکیں گے۔ وہاں کوئی ایسا نہیں ہوگا جو کسی مخلوق کو نقصان پہنچا ئے یا ناخوش کر سکے۔

نہ کوئی بیماری اور نہ مَوت

چونکہ وہاں کوئی بیماری، درد یا موت نہیں ہوگی، اس لیے کچھ شعبے اور پیشے بالکل ختم ہو جائیں گے۔ کوئی ڈاکٹر، نرسیں، تابوت بردار ، یا بیمہ پالیسی کے ایجنٹوں کو کاروبار کرنے کے لیے کوئی شخص نہیں مِل سکے گا۔ مالی مسائل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں گے۔ وہ مسائل جو اب سب سے زیادہ غم کا باعث ہیں مُقدّسوں کے خیال میں بھی نہیں آ ئیں گے۔ وہ اِس زندگی کی پریشانیوں کو ہمیشہ کے لیے بھول جائیں گے۔
کیا ہم اُن پیاروں کا غم نہیں کریں گے جو وہاں نہیں ہوں گے؟ اِس میں کوئی شک نہیں کہ جب پتہ چل جائے گا کہ وہ لاپتہ ہیں تو ہم روئیں گے، لیکن پھر خُدااپنے لوگوں کی آنکھوں سے تمام آنسو پونچھ دے گا ۔
بائبل مُقدّس کے سب سے عظیم وعدوں میں سے ایک وعدہ مکاشفہ ،۲۱ باب ۳ تا ۴ آیات میں پایا جاتا ہے۔ "پھر مَیں نے تخت میں سے کِسی کو بُلند آواز سے یہ کہتے سُنا کہ دیکھ خُدا کا خیمہ آدمِیوں کے درمِیان ہے اور وہ اُ ن کے ساتھ سکونت کرے گا اور وہ اُس کے لوگ ہوں گے اور خُدا آپ اُن کے ساتھ رہے گااور اُن کا خُدا ہوگا ۔ اور وہ اُن کی آنکھوں کے سب آنسو پونچھ دے گا ۔ اِس کے بعد نہ مَوت رہے گی اور نہ ماتم رہے گا ۔ نہ آہ و نالہ نہ درد ۔ پہلی چیزیں جاتی رہیں۔"

کیا یہ شاندار نہیں ہے؟میں تم سے کہتا ہوں کہ اگر جنت ان دو آیات کی وضاحت سے زیادہ نہیں ہوتی ، میں پھر بھی وہاں رہنا چاہوں گا! کیا آپ وہاں رہنا پسند نہیں کریں گے؟وہاں نہ کوئی غم کی وجہ - نہ کوئی درد، نہ کوئی موت،نہ کوئی جدائی ۔
یسعیاہ 24:33 میں ہم ان لوگوں کے بارے میں کچھ اور پڑھتے ہیں جو اس نئی دُنیا میں سکونت کریں گے: "وہاں کے باشِندوں میں کوئی بھی نہ کہے گا کہ مَیں بیمار ہُوں ۔" بعض اوقات جب میں سبت کی صبح لوگوں سے ملتا ہوں تو پوچھتا ہوں، "آج آپ کا کیا حال ہے؟" اور ہر بار کوئی نہ کوئی کہتا ہے، "مَیں بہت اچھا محسوس نہیں کر رہا ہوں۔مجھے شاید بستر پر ہی رہنا چاہیے تھا۔" ٹھیک ہے، شاید اُنہیں گھر پر آرام کرنا چا ئیے تھا۔ لیکن وہ خُداوند سے اِس قدر پیار کرتے تھے کہ وہ اُس کی عبادت کے لیے اپنے گھر سے باہر آنا چاہتے تھے۔ ہاں یہاں لوگ بیمار پڑتے ہیں، لیکن جنت میں ہمیں کبھی بھی اس اظہار کو استعمال کرنے کی ضرورت نہیں پڑےگی۔اِسے یکسر ہمیشہ کے لیے نابود کردیا جائے گا۔ ہم کبھی یہ بھی نہیں پوچھیں گے، "آج صبح آپ کیسے ہو؟" ہمیں معلوم ہوجائے گا کہ وہ کیسے ہیں۔ وہ ٹھیک ہیں. وہ بیمار نہیں ہیں۔ وہ کامل محسوس کرتے ہیں۔ کبھی نہ ختم ہونے والا جوانی کا حُسن و جمال ہر چہرے پر نمایاں ہوگا۔ کوئی نہیں کہے گا، "میں بیمار ہوں۔" کوئی بھی اپنے پیاروں کو تکلیف اور پھر مَوت کے دہانے پر پھسلتے ہوئے دیکھ کر مایوسی محسوس نہیں کرے گا۔
اوہ، میں کسی بھی چیز سے زیادہ اس تجربے کی خواہش رکھتا ہوں۔ بچے اس نئی مملکت میں محفوظ رہیں گے جو خُدا ہمارے لیے تیار کر رہا ہے۔ میں آپ

کو یہ بتاتا ہوں، والدین، اور آپ اس سے بہت اطمینان اور سکون حاصل کر سکتے ہیں۔ آپ کے بچوں کو کبھی گاڑی سے ٹکرانے کا خطرہ نہیں ہوگا۔ میں ہمارے لوئس ویلی کروسیڈ خیمے کے سامنے کا منظر کبھی نہیں بھولوں گا۔ سڑک کے عین وسط میں میں نے ایک چھوٹی بچی کو دیکھا جو ایک کار کی زد میں آ کر ہلاک ہو گئی تھی۔ میں کبھی بھی اس منظر کو اپنے ذہن سے نہیں نکال سکا ، جب کار نے بڑی بے دردی سے لڑکی کو کچل دیاتھا۔
بائبل مُقدّس فرماتی ہے کہ بچے وہاں ہوں گے، اور وہ گلیوں میں کھیلیں گے اور انہیں کبھی تکلیف نہیں ہوگی۔ "او رشہر کے کُوچے کھیلنے والے لڑکے لڑکیوں سے معمُور ہُوں گے ۔" (زکریا۵:۸)۔ کیا یہ شاندار نہیں ہو گا؟ محترم والدین،کیا آپ نے کبھی آٹوموبائل گاڑی کی بریکوں کو چیختے ہوئے سنا ہے جس نے آپ کو اپنے پاوں پر منجمد کردیا؟ پھر آپ دِل کو تھامے کھڑکی کی طرف بھاگے ہوں کہ کیا آپ کا بچہّ گلی میں ہے؟ آپ نے ایک سے زیادہ بار اِس کا اتفاق ہوا ہے، کیا آپ کو نہیں ہوا؟ لیکن وہاں ایسا کوئی خوف نہیں ہوگا کہ آپ کے بچے نئی زمین میں محفوظ نہیں ہیں۔ اور یہاں تک کہ جب وہ زندگی کے دریا کے ساتھ ساتھ کھیلتے ہیں، تو آپ ان کے بارے میں بالکل بھی پریشان نہیں ہوں گے۔ وہ نہ گریں گے اور نہ ڈوبیں گے۔ "وہ میرے تمام کوہِ مُقدّس پر نہ ضرر پُہنچائیں گے نہ ہلاک کریں گے خُداوند فرماتا ہے۔" ( یسعیاہ ۲۵:۶۵)۔
بچے وہیں پروان چڑھنے والے ہیں۔ بائبل مُقدس بتاتی ہے کہ وہ ایسے جوان ہوں گے جیسے گاوخانہ میں بچھڑے بڑھتے ہیں، اور مجھے لگتا ہے کہ ہم بالغ بھی بڑے ہونے جا رہے ہیں۔ ہم رُوحانی اور فکری طور پر بڑے ہوں گے۔

اب میں کچھ کہنے جا رہا ہوں جو میں بائبل مُقدس سے ثابت نہیں کر سکتا۔ میں آپ کو اس کے لیے حوالہ نہیں دے سکتا، اس لیے آپ اسے مان لیں یا چھوڑ دیں۔ لیکن مجھے لگتا ہے کہ ہمیں شروع میں آدم کے ساتھ بات کرنے میں تھوڑی پریشانی ہوگی۔ وہ خُدا کی صورت پر بنایا گیا تھا، اور ہمارے ناقص ذہن 6,000 سال کے گناہ کے موروثی رجحانات اور کمزوریوں کی وجہ سے خستہ ہو گئے ہیں۔ ہمیں آدم کو سمجھنے اور جاننے کے لیے کافی محنت کرنی پڑے گی، لیکن ہم جلدی سیکھ لیں گے۔
کوئی شک نہیں کہ ہم جسمانی طور پر بھی بالغ اور جوان ہوں گے۔ مجھے یقین ہے کہ آدم آج کے کسی بھی آدمی سے بہت قد آوراور مضبوط تھا۔ بائبل مُقدّس فرماتی ہے کہ ان دنوں زمین پر جبّارتھے۔ پیدائش کی کتاب میں ایک آدمی کو 10 فٹ لمبا بتایا گیا ہے۔ میں اچھی طرح یقین کر سکتا ہوں کہ آدم اور حوا 12 یا 15 فٹ لمبے تھے۔ مجھے یقین ہے کہ گناہ کی مکمل، آخری لعنت کو دُور کر دیا جائے گا جب ہم خُدا کی شبیہ میں بڑے ہوں گے، جیسا کہ آدم اور حوّا میں ظاہر ہوا تھا۔ مَیں ایک اس قدر بڑے دیو ہیکل شخص کے پاس چل کرجاو ں گااور اپنا ہاتھ بڑھا کر کہوں گا، "میرا نام کریو ہے۔" آدم اپنا ہاتھ نیچے رکھے گا اور مجھے بچے کی طرح دیکھے گا اور کہے گا، "اچھا، میں آدم ہوں۔" میں آدم سے کہوں گا مَیں آپ کے بارے جانناچاہتا ہوں۔
تمام چیزوں کے اختتام کے تناظر میں لکھتے ہوئے، ملاکی نے کہا: "لیکن تُم جو میرے نام کی تعظیم کرتے ہو آفتابِ صداقت طالع ہو گا اور اُس کی کِرنوں میں شِفا ہوگی اور تُم گاوخانہ کے بچھڑوں کی طرح کُودو پھاندو گے۔" (ملاکی ۲:۴)۔ ہم اکثر اس کا مطلب یہ لیتے ہیں کہ والدین اپنے بچوں کو رُوحانی

بلوغت میں بڑھتے ہوتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں، لیکن کیا یہ ہم سب پر بھی لاگو نہیں ہو سکتا جب ہم گناہ کے کمزور اثرات سے باہر نکلتے ہیں؟ گرچہ ہم اس نکتے پر ہٹ دھرم نہیں ہو سکتے، لیکن ایسا لگتا ہے کہ ایسا ہو سکتا ہے۔
جب ہم وہاں آسمان پر جائیں گے تو سارے نقائص پیچھے رہ جائیں گے۔ یسعیاہ ۳۵ باب ۵ تا ۶ آیات میں ہمارے لیے ایک خوبصورت وعدہ ہے: "اُس وقت اندھوں کی آنکھیں وا کی جائیں گی اور بہروں کے کان کھولے جائیں گے ۔ تب لنگڑے ہرن کی مانِند چَوکڑیاں بھریں گے اور گُونگے کی زُبان گائے گی کیونکہ بیابان میں پانی اور دہشت میں ندیاں پُھوٹ نِکلیں گی ۔" انتہا ئی بڑی خوشیوں میں سے ایک یہ ہے کہ ہر طرف سے یہ آوازیں سنائی دیں گی، "میں دوبارہ دیکھ سکتا ہوں!" اور "میں سن سکتا ہوں!" اور "میں مضبوط ہوں!" بڑھاپے کی تمام کمزوریاں ہمیشہ کے لیے دُور ہو جائیں گی، اور ہم صرف ابدی جوانی کو پھول کی طرح شگفتہ و تروتازہ دیکھیں گے۔ ہر ذہن مستعد اور چوکنا ہو گا۔
ہندوستان میں رہتے ہوئے ۔ میں نے اکثر انسانی مصائب اور انسانی بدحالی کے دل دہلا دینے والے مناظر دیکھے۔ بعض مخصوص جگہوں پر بھکاریوں نے سڑکوں پر قطاریں لگا رکھی— اپاہج ، جسمانی اور دماغی طور پر معزور، کوڑھی اور اندھے۔ اس طرح کے تجربے کی ایک یادد دہانی یا خیال بھی اس شاندار سرزمین کے باشندوں کو اذیت نہیں دے گا۔
بائبل مُقدّس فرماتی ہے، "لیکن خُداوند کا اِنتظار کرنے والے ازسر ِ نَو زور حاصِل کریں گے۔ وہ عُقابوں کی مانِند با ل و پر سے اُڑیں گے وہ دَوڑیں گے اور نہ تھکیں گے ۔ وہ چلیں گے اور ماند ہ نہ ہوں گے۔" ( یسعیاہ ۳۱:۴۰)۔ہم ایسے جسموں کے ساتھ جو کبھی نہیں تھکیں گے خُداکے شہر کی شاندار وسعت

کے طول و عرض میں تلاش کر سکتے ہیں۔ اس نئے شہریروشلم کی ہر گلی کو اس کی 1,500 میل لمبی خالص ترین یشب کی دیوار کے ساتھ عبور کرنے میں ابدیت کا صرف ایک تھوڑا سا وقت لگے گا۔ اس از سر نو تشکیل شدہ سیارے کا ہر مربع انچ نایاب ترین خوبصورتی اور کشش کے ساتھ چمکے گا۔ جو لوگ سفر کرنا پسند کرتے ہیں وہ جنت کو ایک خاص جگہ پائیں گے۔ پوری ناپید کائنات ہمارے مطالعے اور مشاہدے کے لیے کھلے گی۔ ہم اربوں دلچسپ سیاروں، نظام شمسی اور کہکشاؤں کا دِورہ کرنے کے قابل ہو جائیں گے جو کبھی بھی گناہ کے لمس سے خراب نہیں ہوئے تھے۔ ہم جہاں چاہیں وہاں جا سکتے ہیں، جب تک چاہیں ٹھہر سکتے ہیں، اور جلدی جلدی واپس لوٹ سکتے ہیں۔کیا غور کرنے کے لئے کچھ اِس سے زیادہ شاندار ہے؟
شاید آپ لوگوں میں دلچسپی رکھتے ہوں، جیسا کہ میں رکھتا ہوں۔ کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ بائبل مُقدّس میں جن لوگوں کے بارے میں آپ نے پڑھا ہے ان سے مُلاقات کا شرف حاصل کرنے کی خوشی؟میری لائبریری میں ایک کتاب ہے جس میں ایک آدمی فطری بنیادوں پر یہ بتانے کی کوشش کرتا ہے کہ نوح ؔنے ان تمام جانوروں کو اُس کشتی میں کیسے پہنچایا۔ میں اس آدمی کو بالکل سمجھ نہیں سکتا جو اِسے سمجھانے کی کوشش کرتا ہے، لیکن میں نوح ؎کے ساتھ بیٹھ کر اس سے بات کرنا چاہوں گا۔ کیا آپ نہیں کریں گے؟ ایک دِن ہم یہی کریں گے ہم نُوح ؔسے اس واقعہ کے بارے میں پوچھ سکیں گے اور یہ معلوم کر سکیں گے کہ وہ اُن تمام جانوروں کو کیسے اندر لایا، اور وہ ایک سال سے زیادہ عرصہ کشتی میں کیسے رہے۔
پھر، میں نے ابرہام کے بارے میں اور اس المناک دِن کے بارے میں سوچا کہ جب وہ اپنے ہی وعدہ کے فرزند کو، خُدا کے حکم سے، موریاہ کی چوٹی

پر قُربان کرنے کے لیے گیا تھا۔ اوہ، ابرؔہام کے لیے یہ تجربہ کیسا رہا ہوگا! میں نے تصور کرنے کی کوشش کی ہے کہ اس باپ نے پہاڑ کے کنارے تھکا دینے والا سفرکرتے ہوئے کیا محسوس کیا، یہ جانتے ہوئے کہ اسے اپنے ہی ہاتھ سے اپنے پیارے بیٹے کوقُربا ن کرنا ہے۔ کسی دن میں ابرؔہام سے اس ہولناک تجربے کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہوں، اور وہ بتائے گا کہ اس کا کیا مطلب تھا جب وہ اپنے بیٹے کی جان لینے والا تھا۔
پھر، میں اس صوبہ دار سے بات کرنا چاہتا ہوں جس نے صلیب کے پاس کھڑے ہو کر یسُوع کو مصلُوب ہوتے دیکھا تھا — وہ جس نے کہا تھا، "واقعی، یہ خُدا کا بیٹا تھا۔" میں اُس خوفناک دن کی مزید تفصیلات جاننا چاہوں گا، کیا آپ نہیں؟ اور، ماؤں، کیا آپ مُقدّسہ مریم سے بات کرنا پسند نہیں کریں گی؟ یسُوع کی زندگی کے تیس سال کے بارے میں ہم کچھ نہیں جانتے۔ کیا آپ مریم سے یسُوع مسیح کے بچپن اور جوانی کےبارے میں پوچھنا پسند نہیں کریں گے؟
یہاں تک کہ ہمارے بیابانی تخیل میں بھی ہمیں بائبل مُقدّس کے کرداروں کے ساتھ ان خاص رابطوں کا تصور کرنا مشکل لگتا ہے جن سے ہم نے محبت اور احترام کرنا سیکھا ہے۔ بہر حال، یہ اندازہ لگانا سنسنی خیز ہے کہ جب ہم ان سے ملیں گے تو یہ کیسا ہوگا۔

ناقابل تصور خوبصُورتی اور خوشی

(۱۔ کرنتھیوں۹:۲ )میں ہمیں بتایا گیا ہے، "بلکہ جیسا لِکھا ہے
وَیسا ہی ہُوا کہ جو چیزیں نہ آنکھوں نے دیکھیں نہ کانوں نے سُنیں نہ آدمی کے دِل میں آ ئیں۔ وہ سب خُد انے اپنے مُحبّت رکھنے والوں کے لیے تیار کر دِیں۔" اب، میرے نزدیک یہ مما ثلت کے بغیر ایک وعدہ ہے۔ پُوری بائبل مُقدّس میں اس جیسا کچھ نہیں ہے۔ جب وہ یہ فرماتا ہے کہ میں نے کبھی بھی کوئی ایسی چیز نہیں دیکھی جس کا آسمان سے موازنہ کروں، تو یہ کافی ہے، کیونکہ میں نے اِس دنیا میں کچھ حیرت انگیز چیزیں دیکھی ہیں۔
میں نے بہت سے ممالک کا دَورہ کیا ہے اور میں نے ایسی چیزیں دیکھی ہیں جو میں نے بالکل بے مثال محسوس کی ہیں۔ میں نے ہندوستان کا خوبصورت تاج محل دیکھا۔ میں نے سوئٹزرلینڈ کے بلند و بالا پہاڑ اور ہالینڈ کے خوبصورت ٹیولپ باغات دیکھے ہیں، لیکن جنت ان میں سے کسی بھی نظارے سے کہیں زیادہ خوبصورت ہوگی۔ میرے کچھ دوست کوہ ِ ہمالیہ پہاڑوں کے عظیم راستوں سے ہوتے ہوئے کشمیر کی وادی میں چلے گئے۔ وہ مجھے بتاتے ہیں کہ زمین پر کوئی بھی چیز اِن خوبصورت وادیوں سے موازہ نہیں کر سکتی!
میرے کچھ دوست مُلک ِ پاکستان میں ہنزہ کی وادی شنگریلا میں سیر کے لیے گئے، اور انہوں نے مجھے پرسکون جھیلوں اور خوبصورت پہاڑوں کے بارے میں بتایا۔ یہ بہت اچھا لگ رہا تھا؛ لیکن، سنیں—بائبل مُقدّس کہتی ہے

کہ ہم نے کبھی کسی ایسی چیز کے بارے میں نہیں سنا ہے جو ہمیں اس بات کا سب سے دھندلا سا تصور بھی دے گا کہ جنت واقعی کیسی ہے۔
متن مزید وضاحت کرتاہے۔ کہ ہم نے کبھی اس کی حقیقی خوبصُورتی کا تصور بھی نہیں کیا تھا ۔ یہ نہ کبھی اِنسان کے دِل میں آ ئیں۔ میرے پاس ایک سرسبز و شاداب تخیل ہے اور میں ایسی چیزوں کا تصور کر سکتا ہوں جو اس دنیا سے کہیں دُورہیں۔ لیکن پھر بھی بائبل مُقدّس بتاتی ہے کہ یہاں کی چیزیں آسمان کی خوبصورتی اور جلال کے مقابلے میں بلکل ہیچ ہوں گی۔
اِس مُقدّس مسکن کا سب سے خوشگوار پہلو ہے۔ کہ یہ ایک صاف ستھرا شہر اور صاف ستھرا ملک ہوگا۔ "اور اُس میں کوئی ناپاک چیز یا کوئی شخص جو گِھنونے کام کرتا یا جُھوٹی با تیں گھڑتا ہے ہر گز داخِل نہ ہو گا مگر وُہی جِن کے نام برّہ کی کِتابِ حیات میں لِکھے ہوئے ہیں۔" ( مکاشفہ ۲۷:۲۱)۔ کیا آپ ایک پورے شہر کی تصویر بنا سکتے ہیں، جو سیارےسے چھوٹا ہو ، جس میں سگریٹ کے دھوئیں کی بدبو کا کبھی پتہ تک نہ چلے؟ اس دن خُدا کی ایک لامحدود کائنات ہوگی جہاں کوئی کیمیائی زہر موجود نہیں ہوگا۔سنہری گلیوں میں بیئر کین اور سگریٹ کے ٹوٹے اور کوڑے کا نام و نشان تک نہ ہو گا۔ جسم کو ناپاک کرنا، ہوا کو آلودہ کرنا، اور گلیوں کو گندا کرنا خُدا کے شاہی دارالحکومت میں نامعلوم ہوگا۔
میں ونسٹن سیلم، شمالی کیرولائنا کے قریب پلا بڑھا، اور شہر کی ان گلیوں کی آب وہ ہوامیں تمباکو کی ناگوار بدبُو آ یا کرتی تھی۔ یہ نشہ آور جڑی بوٹیوں اور تمباکو کے لیے دنُیا کی سب سے بڑی منڈیوں میں سے ایک تھی ۔جو انتہا ئی زہریلے تمباکو کی مُضحر صِحت جانی پہچانی، گھمبیر بدبو کو خارج کرتی تھی۔اس علاقے سے دُور جانے کی کتنی خوشی تھی۔ جہاں نیکوٹین کی آلودگی کی وجہ سے قدرتی حسن کی نفی کی گئی۔

اُس کے بعد مَیں نے مشن کی طر ف سے بھارت میں خدمت کرنے کی بلاہٹ کا خیرمقدم کیا ، اور وہاں ہمارے خاندان نے بنگلور کے خوبصورت شہر میں رہاش اختیار کی۔ ہمارے آرام دہ کرائے کے بنگلے میں آباد ہونےکے بعد، ایک مشرقی ہوا چلی اور ہمیں پتہ چلا کہ سڑک کے پار سرخ دیوار کے دوسری طرف کیا واقع ہے۔تمباکو کی فیکٹری ! مزید کچھ سالوں تک ہمیں پروسس شدہ زہر کی ناگوار بدبو کو برداشت کرنا پڑا۔
ریاستہائے متحدہ امریکہ واپس آنے کے بعد میں نے لوئس ول، کینٹکی میں ایک چرچ کے پادری کی دعوت کو قبول کر لیا۔ جیسے ہی ہم شہر کی حدودکو عبور کر رہے تھے ہمارے نتھنوں پر ایک بہت ہی جانی پہچانی بدبُونے حملہ کیا۔ دوبارہ تمباکو! لیکن اس بار اسے خمیر شدہ شراب کی بدبو کے ساتھ ملایا گیا تھا۔ لوئس ول میں ، ہم نے معلُوم کیا، تمباکو اور شراب کشید کرنےکے کارخانہ کے لیے مشہور تھا۔ مجھے اب یقین ہو گیا ہے کہ جب تک میں نئے یروشلم کے اس صاف ستھرے شہر میں رہائش اختیار نہیں کروں گا تب تک ان بدعنوان اثرات سے کوئی حقیقی نجات حاصل نہیں ہو سکتی۔
ہم نے اُس طرز زندگی میں بہت سی ڈرامائی تبدیلیوں کی نشاندہی کی ہے جو نئی زمین کے وارث ہونے والوں کو نشان زد کریں گی۔ہم نے انسانی زبان میں ایک کامل ماحول میں رہنے کی خوشی اور لذت کو ہر طرح کے گُناہ اور اس کے تباہ کن اثرات سے پاک تصّور کو پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ ہر صورت حال نہایت دلچسپ اور شاندار للکارپیش کر رہی ہے۔ یہ ہمیں آنسوؤں کی اس وادی کو جلد از جلد چھوڑنے کے لیے بے چین کرتا ہے۔

ہمارے حواس اس طرح کے جسمانی فوائد کے امکان سے ہل جاتے ہیں جیسے نہ کوئی بیماری، نہ کوئی درد، اور نہ کوئی موت۔اِس کے باوجود نِجات پانے والوں کے لیے مخصوص کردہ انتہائی خوشی کا اُن کے طرز زندگی، ان کے کھانے پینے ، یا ان کی لافانی فطرت سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔فِردوس کی انتہا ئی خوشی یسُوع کو رُوبرُو دیکھنا اور ہمیشہ اس کے ساتھ رہنا ہے۔ نِجات کی سائنس میں ، اس کے ہاتھوں میں کیلوں کے نشانات دیکھنے کے لیے، اور ہمارے ذہنوں کو اس کی اپنی الہی ہدایات کے لیے کھولنے کے لیے ، یہ کیساامکان ہے!
اَب جو سوال میں آپ کے ساتھ چھوڑنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ جب وہ دِن طلوع ہوگا اور خُدا کے راستباز اِیماندار اُس شہر میں داخل ہوں گے تو کیا آپ اِن میں شامل ہوں گے؟ ابرؔہام وہاں ہو گا۔ اسحاؔق، یعقوؔب ، جوزؔف ، پطرس اور پولس دروازوں کے اندر سیرکریں گے۔ جب وہ اندر ہوں گے تو کیا آپ بھی اندر ہوں گے؟ اگر ہم چاہیں تو ہم ابھی بکنگ کر سکتے ہیں۔
دُوسری جنگ عظیم کے دوران بہت سے امریکی سنگاپور میں پکڑے گئے تھے، اور اگرچہ امریکی حکومت نے ان کی مدد کا ذریعہ فراہم کیا تھا، لیکن جنگ کے اُتار چڑھاو کی وجہ سے انہیں باہر نکلنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک دن ایک بہت عمدہ، اچھے لباس میں ملبوس آدمی امریکی سفارت خانے میں داخل ہوا اور کہا، "مجھے یہاں سے بک کرو۔ میں جلد از جلد باہر نکلنا چاہتا ہوں۔" سفیر نے کہا، "ٹھیک ہے، تمہارا پاسپورٹ کہاں ہے؟" اس آدمی نے کہا میرے پاس پاسپورٹ نہیں ہے۔ سفیر نے پوچھا "کیا تم شہری نہیں ہو؟" اس نے کہا، "ٹھیک ہے، نہیں، میں نے واقعی کبھی کوئی کاغذات نہیں نکلوا

ئے، لیکن میں نے ساری زندگی وہیں گزاری ہے۔ میرا وہاں ایک کاروبار ہے، اور میرا بینک اکاؤنٹ وہاں ہے، اور میں امریکہ سے محبت کرتا ہوں۔ میں ایک امریکی ہوں۔" سفیر نے کہا، "مجھے افسوس ہے، لیکن میں آپ کے لیے کچھ نہیں کر سکتا۔ اگر آپ شہری نہیں ہیں تو میں آپ کی مدد نہیں کر سکتا۔" وہ آدمی بیمار اور مایوس ہو کر چلا گیا۔
تھوڑی دیر بعد ایک اور آدمی پرانے، خستہ حال کپڑوں میں ملبوس چلتا ہوا اندر آیا۔ اُس نے بھاری لہجے میں بات کہی، جب اس نے اگلے جہاز پر روانہ ہونے کے لیے بکنگ کرنے کو کہا۔ سفیر نے پوچھا "تمہارے کاغذات کہاں ہیں؟" آدمی نے جواب دیا، "وہ یہاں ہیں۔ میں نے اُنہیں امریکہ چھوڑنے سے پہلے ہی نکال لیا تھا۔" اور سفیر نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور کہا، "ریاستہائے متحدہ امریکہ کی حکومت تمام طاقت حفاظت سے باہر نکلنے میں آپ کے پیچھے کھڑی ہوگی۔"
وہ دونوں آدمی امریکہ سے بہت پیار کرتے تھے۔ ان دونوں نے امریکی ہونے کا دعویٰ کیا، لیکن ان میں سے صرف ایک کے پاس اس کے کاغذات تھے۔ صرف ایک کے پاس اس کا مطلوبہ پاسپورٹ تھا۔ ان میں سے صرف ایک ہی ریزرویشن کر سکتا تھا۔ اور اگر آپ چاہیں تو آپ بکنگ کر سکتے ہیں، لیکن ایسا کرنے سے پہلے آپ کو اُس آسمانی بادشاہی کا شہری ہونا چاہیے۔ اگر آپ یہ کرنا چاہتے ہیں، تو آپ ابھی اپنی بکنگ کر سکتے ہیں۔ جب وہ دن آئے گا، تو آپ اپنی ساری اَ بدی زِندگی کے لیےخُدا کے لوگوں کے ساتھ شامل ہو سکتے ہیں اور اس خوبصورت شہر میں ان مثالی حالات میں رہ سکتے ہیں جو ہم نے بیان کیے ہیں۔ آپ کو ہرصورت میں یہ موقع گنوانا نہیں چاہئے