عدالت میں آپ کا زیرِ سماعت مُقدمہ
تیس سال کی عمر میں، یسُوع ناصرت میں بڑھئی کی دُکان سے نکلااور دریائے یَردؔن کی جانب سفر شروع کیا جہاں یوحنا اصطباغی سخت انتباہ کے ساتھ توبہ کے بپتِسمہ کی مُنادی کر رہا تھا۔یہ شاید پہلا موقع تھا دونوں خالہ ذادآپس ملے تھے، لیکن جیسے ہی یسُوع سامعین کے حلقے میں چلا گیا، یوحنا نے اس کی طرف اشارہ کیا اور کہا، "دیکھو یہ خُدا کا برّہ، جو دُنیا کا گناہ اُٹھا لے جاتا ہے۔"( یوحنا ۲۹:۱)۔
اُن پوشیدہ الفاظ سے نبی کا کیا مطلب تھا؟ اُس نے یسُوع کو برّہ کیوں کہا، اور وہ دُنیا کے گُناہوں کو کیسے دُور کر سکتا ہے؟ ان سوالات کے جوابات حاصل کرنے کے لیے، ہمیں دریائے یَردؔن کے کنارے چھوڑ کر سینکڑوں سال پیچھے بحیرہ قُلزم کے کناروں تک جانا چاہیے۔
بنی اسرؔائیل ابھی مصر میں اپنی غلامی کے گھر سےرہا ئی پاکر نکلے ہی تھے اور سیناؔ کے بیابان میں اس طویل، تھکا دینے والے سفر کا آغاز کر رہے تھے۔
خُدا نے اُنہیں اُن کے بیگار لینے والے ظالم سرداروں سے نجات دِلانے کے لیے معجزات کیے تھے، اور اب اُس نے موسیٰ کو کچھ انتہائی ضروری ہدایات کے لیے پہاڑ پر بلایا۔ وہاں کوہ سینا کی تنہائی میں اُسے اکیلے بُلایا ، خُدا نے پہلی بار کسی انسان کی آنکھوں کے سامنے آسمانوں میں اپنی سکونت گاہ کے پُر اسرار بھیدوں کو کھولا۔ موسیٰ کو آسمانی مَقدِس میں عظیم تخت یعنی پاک ترین مکان کا ایک چھوٹا نقشہ دیا گیا تھا۔ اُس کی ہدایات یہ تھیں، "اَور وہ میرے لیے ایک مَقدِ س بنا ئیں ؛ تاکہ میں اُن کے درمیان سکونت کرُوں۔ اور مسکن اور اُس کے سارے سامان کا جو نمونہ مَیں تُجھے دِکھاؤں ٹھیک اُسی کے مُطابق تُم اُسے بنانا۔"
( خروج ۹،۸:۲۵)۔
جب مُوسیٰؔ پہاڑ سے واپس آیا تو، اُس کے پاس بیابان میں مَقدِس کی تعمیر کے عین مُطابق تفصیلات تھیں جہاں خُدا اپنے لوگوں کے ساتھ صحرا میں قیام کے دوران بات چیت کرے گا۔ضرورت کے مطابق اُسے ہلکے وزن والے مواد سے بنایا جانا تھا جسے آسانی سے اکھاڑا اور دوبارہ جوڑا جا سکتا تھا۔جہاں بھی اپنے بیابانی سفر میں ڈیرے ڈالتے تھے۔
ایسی اہم ذمہ داری کے لیے موسیٰ نے بنی اِسرائیل کے تمام ماہر کاریگروں اور ہُنر مندوں کو جمع کیا۔ اور اُنہوں نے ، ا نتہا ئی ا حتیاط اور عین ہدایات کے مُطابق عمارت کے تعمیری عمل کو شروع کیا جو پہاڑ پر موسیٰ کو دکھائے گئے نمونے سے نقل کی گئی تھیں۔ تقریباً چھ ماہ بعد یہ کام مکمل ہوا اور تب خیمہ اِجتماع پر اَبر چھا گیا اور مسکن خُدا وند کے جلال سے معمُور ہو گیا خُدا نے جلال کا بادل بھیج کر اپنی خُوشنودی ظاہر کی۔
اِس نقل پذیر خیمہ اجتماع کا سائز تقریباً پچپن ×اٹھارہ فٹ تھا، چاروں طرف سے بند صحن کے ساتھ صرف مشرق کی طرف ایک دروازہ کُھلتا تھا۔اِس مستطیل عمارت کو دو کمروں میں تقسیم کیا گیا تھا جنہیں ایک بھاری پردے سے الگ کیا گیا تھا جو چھت کے قریب سے فرش تک پھیلا ہوا تھا۔ پہلے بڑے کمرے کو پاک مکان کہا جاتا تھا اور اس میں فرنیچر کی تین خاص اشیاء تھیں - بائیں طرف شمع دان ، دائیں طرف نذر کی روٹیوں کی میز، اور براہ راست پردے کے سامنے سنہری بخور کی قربان گاہ۔
دُوسرے کمرےمیں، جسے پاک ترین مکان (نا قابلِ تسخیر) کہا جاتا ہے، وہاں فرنیچر کا صرف ایک سامان تھا –یعنی عہد کا صندوق۔ یہ عہد کا صندوق کیکر کی لکڑی سے بنایا گیا تھا جس پر سونا منڈھا ہوا تھا جس میں دَس احکام کے قانون کی دو تختیاں تھیں ۔عہد کے صندوق کے اُوپر رحم کی کُرسی تھی، جو خُدا کی حضوری کی نمائندگی کرتی تھی جیسے آسمان میں خُدا کی موجودگی ظاہر ہوتی ہے۔ خُدا کے جاہ و جلا کا ایک روشن مقام جسے شکا ئینہ کہا جاتا ہے زمین پر موجود تمام مقامات میں سے سب سے زیادہ مُقدّس ترین مقام پر رہتا ہے ۔عہد کے صندوق کے دونوں سروں پر سونے سے تراشے ہو ئے دوکرُّوبی فرشتے تھے، اور وہ کرُّوبی اِس طرح اُوپر کو اپنے پَر پھیلا ئے ہوئے تھے کہ سرپوش کو ڈھانکا ہوا تھا ۔ جب کہ وہ عہدکے صندوق اور اس کے اندر اشیاء کو عقیدت سے دیکھتے تھے۔
اُس عارضی مسکن کے ڈھانچے کے تقاضے اتنے سخت کیوں تھے، اور خُدا نے موسیٰ کو اُس نمونے کے مطابق بنانے کا حکم کیوں دیا جو اُسے خود آسمان پر
دِکھایا گیا تھا؟ جیسا کہ ہم روزانہ کی علامتی عبادت کی رسومات کو سمجھتے ہیں جو الہٰی طور پر ہر اسرائیلی کے لیے اس خیمے میں سرانجام دینے کے لیے مقرر کی گئی تھیں۔ توجواب خود بخودواضح ہو جائے گا۔
مقررہ رسُو مات اور قربانیوں کے ذریعے، گُناہ کی مُعافی دستیاب تھی، اور شخصی اور قومی دونوں گُناہوں کا کفارہ دیا جا سکتا تھا۔ مختصراً، اعترافی نظام نے اس طریقے سے کام کیا: اگر کوئی مرد یا عورت گناہ کرتا ہے، تو انہیں مَقدِس کے صحن میں ایک بے عیب اور بے داغ برّہ لانا ہوتاتھا۔ وہاں، سوختنی قربانی کی قربان گاہ کے ذریعے، ان کی طرف سے ضروری تھا کہ وہ جانور پر اپنے ہاتھ رکھ کر اپنے گناہوں کا اعتراف کریں اور پھر اُسے اپنے ہاتھ سے ذبح کریں۔ بے عیب برّہ، بلاشبہ، آنے والے مسیحا کی نمائندگی کرتا تھا۔ ایمان کے ذریعے، وہ اپنے گناہوں کو بھیڑ کے بچے پرمنتقل کر رہے ہوتے تھے، ان کی جگہ نجات دہندہ کی متبادل مَوت کو قبول کر نا تھا۔ خود خُون بہانے سے، انہیں مسلسل یاد دلایا جاتا تھا کہ گناہ کا مطلب مَوت ہے اور وہ صرف دُوسرے کی کفارہ بخش مَوت کے وسیلہ ہی معافی حاصل کر سکتے ہیں۔
اُس کے بعد کاہن کچھ خُون بیرونی صحن میں قربان گاہ کے سینگوں پر چھڑکتا اور گوشت کا ایک چھوٹا ٹکڑا کھاتا، اس طرح عبادت گزاروں کےشخصی گناہوں کو اپنے اوپر لے لیا کرتا تھا، اس کے بعد، کاہن اپنے گناہ کی قربانی کو ذبح کرتا، اور خُون کو پاک مکان میں لے کر جاتا اور وہاں سامنے پردے پر چھڑکتا تھا۔ اس طرح تمام گناہ، بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر، آخر کار مَقدِس میں داخل ہو جاتے تھے جہاں اُنہیں چھڑکے گئے خون کے ذریعے مَقدِس کے پردے پر منتقل کیا
جاتاتھا۔ یوں ہر روز، پورے ایک سال کے لیے، گناہوں کو مَقدِس میں جمع کیا جاتا ہے جو کاہنوں کی روزانہ کی خدمت کے ذریعہ سرانجام پاتا تھا ۔
پھر یوم کفارہ یعنی کفارہ کا سالانہ خاص دِن آتا تھا۔جب پاک مکان میں اُن کے گناہوں کے ریکارڈ کےخاتمہ کے بارے میں حتمی فیصلہ کیا جاتاتھا۔ یہ ہمیشہ ساتویں مہینے کی دسویں تاریخ کو آتاتھا اور اُسے "مَقدِس کی صفائی" کا دَن کہا جاتا تھا۔ آج تک، اس سنجیدہ مذہبی رسم (یوم کپور) کو ہر ایک یہودی اِسے اپنے شخصی فیصلے کا دن سمجھتا ہے۔ علامتی طور پر خُون سے جمع شدہ گناہوں سے مَقدِس کو پاک کیا جاتا تھا جبکہ سردار کاہن، اکیلے، ایک بکرے کا خُون چھڑکنے کے لیے مَقدِس کے پاکترین مکان میں داخل ہوا کرتا تھا۔
یہ بات اہم ہے کہ کفارہ کے دن جماعت خطا کی قُربانی کے لیے دو بکرے صحن میں لا تےتھے تاکہ دونوں میں سے ایک خاص بکرے کوکسی طرح منتخب کیا جا ئے۔ صرف ایک آدمی، سردار کاہن، اس سالانہ تقریب کی خدمت کوسر انجام میں دیتاتھا۔سردار کاہن اُن دونوں بکروں پر چھٹیاں ڈالتا تھا تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ کون سا جانور "خُداوند کے لیے" ہو تاکہ اُسےخطا کی قربانی لیے چڑھایا جائے اوردُوسرے بکرے کو عزازیل کے لیے تاکہ اُسے بیابان میں چھوڑ دیا جائے ۔
جبکہ سردار کاہن خطا کی قُربانی کے بچھڑے کو صحن کی قربان گاہ کے پاس ذبح کرتا تھا ۔اور پوری جماعت روزے اور دُعامیں اپنی جانوں کو دُکھ دے رہی ہوتی تھی۔ اُن کی قسمت کا فیصلہ مَقدِس کے پاکترین مکان میں رحم کی کُرسی کے سامنے ہونا ہوتا تھا۔ اگر کسی شخص کے ایسے گناہ ہوتےتھے جن کا
قرار اور مَقدِس میں اند رج نہیں کیا گیا ہوتا تھا، تو وہ گناہ کفارہ کے خُون کے تحت نہیں آتے تھے۔ اس مرد یا عورت کو اسرائیل کی جماعت میں سے بے دخل کر کے قوم میں سے نکال دیاجاتا تھا۔
صرف سردارکاہن پرد ے میں سے گزر کر رحم کی کُرسی پر خُون چھڑکتا تھا اور یوں پاک مکان میں سے گناہ کے تمام ریکارڈ کو صاف کرتا تھا۔ جب سردار کاہن پاکترین مکان میں سے باہر آتا تو آخری کفارہ کا عمل مکمل ہوجاتاتھا، اور یوں گناہ اور اس کی سزا کے بارے میں ایک علامتی فیصلہ تکمیل پاتا تھا ۔
سردار کاہن کا آخری عمل صحن میں عزازیل کے نام کے بکرے کے سر پر ہاتھ رکھنا ہوتا تھا تاکہ اسرائیل کے سارے گُنا ہ اُس پر منتقل کیے جا ئیں جسے پھر اکیلے ہی مرنے کو بیابان میں چھوڑ دیا جاتا تھا۔ اس طرح شیطان کو جرم اور اُس کی سزا کے اصل موجد کے طور حتمی سزا دے کر نمائندگی کی جاتی تھی ۔ جو انفرادی طور پر ہر ایک کے گناہوں میں شریک رہا۔ عزازیل کے لیے قربانی کا بکرا مسیح کی نمائندگی نہیں کر سکتا تھا، کیونکہ قرعہ کے ذریعے دونوں بکروں میں سےخطا کی قُربانی کا بکرا خُدا وند کے لیے پہلے چُنا جاتا تھا۔ نیز، عزازیل کے لیے قربانی کے بکرے کا کوئی خُون نہیں بہایا جاتا تھا ،لہذا، کفارہ میں اُس کا کوئی حصّہ نہیں ہوتا تھا۔ دُوسری جانب ، شیطان کو آخر کار ہر گناہ میں ملوث ہونے کی سزا بھگتنی ہوگی۔ کیونکہ شیطان لوگوں کے جرم کا کبھی بھی عوضی نہیں ہو سکتا تھا، کیونکہ کفارہ کے خُون کے چھڑکاؤ سے لوگوں کی خطا و جرم پہلے ہی منسوخ ہو چکے ہوتے تھے۔ وہ اپنے جرم اور سزا کو ہزار سالہ "بیابانی" ویرانی
کے دَور کے اختتام پر برداشت کرے گا۔ یہ سب عزازیل کے بکرے کو بیابان میں مرنے کے لیے چھوڑے جانے کی علامت ہے۔
وقت ہمیں صحرائی مَقدِس میں علامتوں کی قدرو قیمت کی وسعت کا جائزہ لینے کی اجازت نہیں دیتا جو نجات کے عظیم منصوبے کے تقریباً ہر پہلو کو روشن کرتی ہے۔ مسیح خُداوند کو ، قربانی کا برّہ، روٹی، بخور، چراغدان ، رحم کی کُرسی میں پیش کیا گیا تھا۔ لیکن سب سے بڑھ کر، اُس کی نمائندگی سردار کاہن کیا کرتا تھا جو قُربانی کے خُون کو لے کر پاک ترین مکان میں شکا ئینہ یعنی خُدا کی حضُوری میں لے کر جاتا تھا ۔ہم جلد ہی عبرانیوں کی کتاب سے دریافت کریں گے کہ زمین پر ادا کی جانے والی تمام رسمیں آسمانی چیزوں کا عکس اورنقل تھیں جنہیں آسمانی مَقدِس میں یسُوع مسیح کی خدمت کے ذریعے پورا ہوناتھا۔ یسُوع کیسے اور کب اِس کہانت کی خدمت میں داخل ہوا یہ دانی ایل نبی کی سب سے متاثر کن اور دِلنشین رویا کا سنسنی خیز موضوع ہے۔جیسا کہ ہم دانی ایل کی کتا ب کے 8 اور 9 ا بواب کو دیکھتے ہیں،مَقدِس کی اہمیت زیادہ سے زیادہ واضح ہو جائے گی۔
دانی ایل کی رویا برائے مَقدِس کی صفائی
دانی ایل 8 باب کے منظر نامے کے شروع میں دانی ایل نبی کو بابل میں جنگی قیدی کے طور پر خدمت کرتے دکِھایا گیا ہے۔یروشلم کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا گیا اور ا ب وہ ویران اور سُننان پڑا تھا ا ور زیادہ تر اسرائیلیوں کو بابل میں اسیر کر کے لے جایا گیا تھا۔ اگرچہ دانی ایل کو بیلشضر کے محل میں ایک جسمانی غلام کے طور پر خدمت کرنے پر مجبور کیا گیا ، لیکن اُس کے خیالات اب خاص طور پر یروشلیم کی ویران شدہ ہیکل پر مرکوز ہیں۔ وہ تسلیم کرتا ہے کہ پیشینگوئی میں ستر سال کی جلاوطنی کہ مُدت تقریباً ختم ہو چکی ہے، اور اس کا دل خوبصورت ہیکل کی بحالی اور اس کی خدمات کو دیکھنے کے لیے تڑپتا ہے۔
اِسی تناظر میں دانی ایل نے ایک رویا دیکھی ،جس میں ایک مینڈھا اور جسیم بکرا ایک خونی لڑا ئی لڑ رہے ہیں۔ دو سینگوں والا مینڈھا پہلے نکلا اور "وہ جو کچھ چاہتا تھا کرتا تھا یہاں تک کہ وہ بہت بڑا ہو گیا۔" (دانی ایل ۴:۸)۔ پھر ایک جسیم بکر ا جس کی آنکھوں کے درمیان ایک نمایا ں سینگ تھا مغرب کی طرف سے بڑی تیزی کے ساتھ آیا اور دو سینگوں والے مینڈھے پر حملہ آور ہُوا۔ اِ س جھڑپ میں بکرا غالب آ یا، یوں مینڈھے کے دونوں سینگ ٹوٹ گئے۔ جس کے نتیجے میں وہ بکرا "نہایت بزُرگ" ہُوا۔ لیکن
"جب وہ نہایت زور آور ہوا، تو اُس کا بڑا سینگ ٹوٹ گیا؛ اور اس کی جگہ چار عجیب سینگ نکلے..." (دانی ایل ۸:۸)۔
اگلی رویا میں، دانی ایل نبی نے اُن میں سے ایک چھوٹاسینگ نکلتے ہُو ئے دیکھا۔ اوروہ اِس سے حیران تھا کہ ،چھوٹا سینگ جلالی مُلک کی طرف "نہایت بڑھ گیا" اور یہاں تک کہ اُس نےخود کو اجرام فلک تک بُلند کیا اور خُدا کے خلاف کفر بکا اور "سچائی کو زمین پر پٹک دیا۔"
آخرکار ، دانی یل نے رویا میں دو قُدسیو ں کے درمیان گفتگو سُنی۔ محوِ گفتگو ایک قُدسی نے دُوسرے سے سوال کیا اور اُس نے اُسے ایسا جواب دیا جس نے اسیر نبی کے دِل میں اُمید کا جوش بھر دیا۔سوال بظاہر اسی چیز سے متعلق تھا جس سے دانی ایل کا گہرا تعلق تھا - یعنی یروشلم کی ہیکل کی بحالی۔"دا ئمی قر بانی اور ویران کرنے والی رویا جس میں مَقدِس اور اجرام پایمال ہوتے ہیں کب تک رہے گی ..."( دانی ایل ۱۳:۸) ۔ جواب ملا، "دو ہزار تین سو صُبح و شام تک، اُس کے بعد مَقدِس پاک کیا جائے گا۔" (دانی ایل ۱۴:۸)۔
جب رویا ختم ہوئی تو خُدا نے جبرائیل فرشتہ کو بھیجا کہ دانی ایل نے جو کچھ دیکھا تھا اُسے اُس کا مطلب سمجھائے۔ جانوروں کے بارے میں اُس نے کہا، “جو مینڈھا تُو نے دیکھا اُس کے دو نوں سینگ مادیؔ اور فارسؔ کے بادشاہ ہیں۔ اور وہ جسیم بکرا یونان کا بادشاہ ہے اور اُس کی آنکھوں کے درمیان کا بڑا سینگ پہلا بادشاہ ہے۔" (دانی ایل۲۱،۲۰:۸)۔
یکے بعد دیگرے سلطنتوں کی وضاحت دانی ایل کے لیے نئی نہیں تھی کیونکہ سابقہ رویا جو اُس نے دیکھی تھیں وہ عالمی تاریخ سے متعلق تھیں ۔ وہ
مادیؔ فارسؔ اور اسکندر اعظیم یعنی یونان کی بادشاہی دونوں سے بخوبی واقف تھا جو بابل کی پیروی کرنے والی تھیں۔ اُسے روم کی چوتھی سلطنت کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا تھا، اور یہ کہ کس طرح گستاخ چھوٹا سینگ بعد میں خُدا کی شریعت اور حکومت کو چیلنج کرنے کے لیے سامنے آئے گا۔ مستقبل میں ہونے والی اِن پیش رفتوں کے بارے میں جبرائیل فرشتہ کی وضاحت دانی ایل کے لیے اہم دلچسپی کا باعث تھی، لیکن اس کی گہری تشویش ہیکل کی بحالی کے لیے تھی۔ وہ ویران کرنے والی مکرُوہ چیزکے خاتمے اور مَقدِس کے پاک کیے جانے کے بارے میں مزید سننا چاہتا تھا۔ وہ بے چینی سے فرشتے کا انتظار کرنے لگا کہ وہ دونوں قُدسیوں کے درمیان ہونے والی اس خفیہ گفتگو کا مطلب بیان کرے۔ اس کی مایوسی کا تصور کریں جب جبرائیل نے اس سارے معاملے کو ان الفاظ کے ساتھ برطرف کر دیا: "اور یہ شام اور صبح کی رویا جو بیا ن ہو ئی یقینی ہے: لیکن تُو اِس رویا کو بند کر رکھ کیونکہ اِس کا علاقہ بہت دُور کے ایام سے ہے۔"( دانی ایل ۲۶:۸)۔
دانی ایل اتنی بڑی توقع لگائے بیٹھا تھا اور وہ اِس تجویز سے یکسر ٹوٹ گیا تھا کہ ، "اور یہ شام اور صبح کی رویا جو بیا ن ہو ئی یقینی ہے: لیکن تُو اِس" رویا کو بند کر رکھ "کیونکہ اِس کا علاقہ بہت دُور کے ایام سے ہے۔" ( دانی ایل ۲۶:۸)۔ اس نے اپنے رَدّعمل کو اس طرح بیان کیا: "اور مُجھ دانی ایل کو غش آیا اور مَیں چند روز تک بیمار پڑا رہا ۔پِھر مَیں اُٹھا اور بادشاہ کا کاروبار کرنے لگا اور مَیں رویا سے پریشان تھا لیکن اِس کو کو ئی نہ سمجھا" ( دانی ایل ۲۷:۸)۔
براہ کرم نوٹ کریں۔ کہ رویا کا واحد حصّہ جس کی وضاحت نہیں کی گئی تھی وہ آخری حصّہ تھا جومَقدِس کے متعلق تھا۔ اس کا تعلق 2300 صُبح و شام کی رویا کی مُدت اور مَقدِس میں عبادت کے نفاذ سے ہے جس کااُس کی رُوح پر بھاری بوجھ تھا۔ چنانچہ دانی ایل نے رویا کے اس حصّےکو سمجھنے کی اپنی دیرینہ خواہش کی تکمیل کے لیے خُدا سے دُعا کرنا شروع کی کیا۔ دانی ایل۔ 9 باب کا زیادہ تر حصّہ نبی کی پُرخلوص دُعا پر مشتمل ہے جہاں وہ خُدا سے ملتجی ہے کہ وہ اپنے لوگوں کی بدکرداری کو معاف کرے اور پیارے شہر یروشلیم اور مَقدِس کو بحال کرے۔ "پس اَب اَے ہمارے خُدا اپنے خادم کی دُعا اور اِلتماس سُن اور اپنے چہرہ کو اپنی ہی خاطر اپنے مَقدِس پر جو وِیران ہے جلوہ گر فرما۔ اَے میرے خُدا کان لگا کر سُن اور آنکھیں کھول کر ہمارے وِیرانوں کو اور اُس شہر کو جو تیر ے نام سےکہلاتا ہے دیکھ کہ ہم تیرے بلکہ تیری بے نِہایت رحمت پر تکیہ کر کے مُناجات کرتے ہیں۔" (دانی ایل ۱۸،۱۷:۹)۔
ہاں مَیں دُعا میں یہ کہہ ہی رہا تھا ، "کہ وُہی شخص جبرائیل جِسے مَیں نے شروع میں رویا میں دیکھا تھا حُکم کے مُطابق تیز پروازی کرتا ہُوا آیا اور شام کی قُربانی گُذراننے کے وقت کے قریب مُجھے چُھوا۔اور اُس نےمُجھے سمجھایا اور مُجھ سے باتیں کِیں اور کہااَے دانی ایل مَیں اب اِس لیے آیا ہُوں کہ تُجھے دانِش و فہم بخشُو ں۔۔۔ پس تُو غور کر اور رویا کو سمجھ لے۔" ( دانی ایل ۹ باب ۲۱ تا ۲۳ آیات)۔ دانی ایل کو کس رویا پر غور کرنے کو کہا گیا تھا؟ اس سے پہلے جبرائیل دانی ایل پر کس رویا میں ظاہر ہوا تھا؟ اور رویا کا کون سا حصّہ غیر واضح رہ گیا تھا؟درج ذیل سوالات کے جوابات واضح ہیں۔جبرائیل دانی ایل 8 باب
کی رویا میں وقت کے عنصر کے بارے میں بات کر رہا تھا۔ اب ہم اُس سے 2300 صُبح و شام کی رویا کے بارے میں وضاحت کو پُورا کرنے کی توقع کر سکتے ہیں، جس کے اختتام پر مَقدِس کو پاک کیاجائے گا۔
دانی ایل اس بار مایوس نہیں ہوا۔ جبرائیل نے فوری طور پر اس وقت (۲۳۰۰ صُبح و شام ) کی پیشینگوئی کا مطلب بیان کرنا شروع کر دیا۔ ت"یرے لوگوں اور تیرے مُقدّس شہر کے لیے ستّر ہفتے مُقرّر کیے گئے ہیں۔" فرشتے کے ان الفاظ سے دو اہم حقائق سامنے آتے ہیں۔ اصل عبرانی میں لفظ "مقررکیے گئے" کا مطلب ہے "کاٹے گئے"۔ لیکن 70 ہفتوں کا کاٹا جاناکیا تھا؟ یاد رہے کہ یہ 2300 صُبح و شام کے بارے میں ہونے والی پُراِسرار گفتگو کی وضاحت ہے۔ لہذا 70 ہفتوں کو اس وقت نامہ کے آغاز سے کاٹ دیا گیا ہےاور دانی ایل اور اُس کے لوگوں، یعنی یہودیوں کے لیے ایک خاص مقصد کے تحت مختص کیا گیا ہے۔ جبرائیل کے اگلے الفاظ بتاتے ہیں کہ یہ خاص وقت اُن کے لیے کیوں مقرر کیا گیا تھا۔ "تیرے لوگوں کے لیے ستّر ہفتے مُقرر کیے گئے کہ خطاکاری اور گُناہ کا خاتمہ ہو جائے۔ بدکرداری کا کفّارہ دِیا جائے۔ اَبدی راست بازی قا ئم ہو اور پاکترِین مقام ممسُو ح کیا جائے۔" ( دانی ایل ۲۴:۹)۔
ہم فوراً سمجھتے ہیں کہ ان تمام جملوں کا تعلق ( مسیحا ) مسیح فرمانروا سے ہے۔اُسے چنیدہ لوگوں کے ذریعے آنا تھا – دانی ایل کے لوگ -- اور 70 ہفتے یہودی قوم پر ایک آزمائش کا وقت تھا کہ وہ مسیح کے ساتھ کیا کریں گے۔ یہ سمجھنے کے لیے کہ یہ آزمائشی مُدت کب شروع ہوگی اور کب ختم ہوگی، ہمیں یقیناً نبُوّتی تشریح کے ایک اہم اصول پر غور کرنا چاہیے۔علامتی پیشینگوئی میں،
ایک دن ہمیشہ ایک سال کی نمائندگی کرتا ہے۔ حزقی ایل ۶:۴ میں خُدا نے فرمایا ،
"۔۔۔ مَیں نے تیرے لیے ایک ایک سال کے بدلے ایک ایک دِن مُقرر کیا ہے۔" اسی اصول کو دوبارہ گنتی ۳۴:۱۴ میں دہرایا گیا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم درحقیقت اِن لفظی دنوں کی بجائے 2300 سال کی مدت ِ وقت سے نمٹ رہے ہیں۔ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ فرشتے نے دانی ایل کو بتایا کہ اِن چیزوں کا علاقہ"بہت دُور کے ایام سے" ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ رویا پُوری بائبل مُقدّس میں سب سے طویل ترین مُدت پر مبنی پیشینگوئی ہے۔
لیکن اب ہمیں یہ تلاش کرنے کی ضرورت ہے کہ ۲۳۰۰ سالوں کا یہ طویل عرصہ کب شروع ہوتا ہے اور کب ختم ہوتا ہے۔ ہم پہلے ہی جانتے ہیں کہ آخر میں کیا ہوتا ہے -- مَقدِس پاک صاف کیاجائے گا -- اور یہ بھی کہ پہلے 70 ہفتے یہودیوں کی پرکھ کے لیے منقطع کر دیے گئے ہیں۔ جبرائیل کے اگلے الفاظ اس پہیلی کو سلجھانے لگتے ہیں، "پس تُو معلُوم کر اور سمجھ لے کہ یروشلِیم کی بحالی اور تعِمیر کا حُکم صادر ہونے سے ممسُوح فرمانروا تک سات ہفتے اور باسٹھ ہفتے ہوں گے۔" (دانی ایل ۲۵:۹)۔
اَب ہمارے پاس پیشینگوئی کے آغاز کو نشان زد کرنے کے لیے ایک مخصوص واقعہ ہے۔ جبرائیل وضاحت کرتا ہے کہ بحالی کا حکم صادر ہونے سے مسیح کے ظہور تک اُنہترہفتے گزر جائیں گے۔ یہاں 2300 سالوں کا آغاز واضح طور پر پنہاں ہے۔اِس کا نقطہ آغاز عزرا ۱۳:۷، ۱۲ میں مندرج ارتخششتا بادشاہ کے شاہی فرمان سے منسلک ہے: "ارتخششتا شاہنشاہ کی طرف سے عزرا کاہن یعنی
آسمان کے خُدا کی شرِیعت کے فقِیہ کامِل وغیرہ وغیرہ کو۔ مَیں یہ فرمان جاری کرتا ہُوں کہ اِسرائیل کے جو لوگ اور اُن کے کاہن اور لاوی میری مُملکت میں ہیں اُن میں سے جِتنے ہیں تیرے ساتھ جا ئیں۔" اس حکم نامے کا مکمل سیاق و سباق پرانے یروشلم کی دیوار اور ہیکل دونوں کی تعمیر نو کے لیے فراہم کیا گیا تھا۔ اس حکم نامہ کی تاریخ تاریخی طور پر 457 قبل ازمسیح پرپُوری اُترتی ہے۔
یسُوع کے لیے اُس کی خدمت شروع کرنے کی اصل تاریخ پرسے ، اب ریاضی تھوڑا سا پردہ اٹھا ئےدے گی۔ فرشتے نے کہا تھا کہ مسیح 457 قبل مسیح کی تاریخ سے اُنہترہفتوں کے پورے ہونے پر ظاہر ہوگا۔ یہا ں ایک ایک سال کے بدلے ایک ایک دِن کے بائبل مُقدّس کے اصول پر عمل کرنے سے، یہ اعداد و شمار 483 سال تک پہنچتے ہیں اور ہمیں 27 عیسوی تک لے آتے ہیں کیا مسیحا واقعی اسی وقت ظاہر ہوا تھا؟ ل"فظ ممسوح فرمانرواکا مطلب ہے"مسح کیا ہُوا ، اور یہ اِسی سال 27 عیسوی میں تھاہُوا تھا ۔ کہ جب یسُوع نے دریا ئے یَردن میں بپتسمہ لینے کے بعد اپنے آسمانی مسح کو حاصل کیا۔ خُدا کا رُوح اُس پر نازل ہوا، اور وہ خُدا کے ممسُوح کے طور پر اپنی خدمت شروع کرنے کے لیے نکلا۔ اِس پیشینگوئی کا مطالعہ کرنے سے، یہودی جان سکتے تھے کہ یہی وہ سال ہے جب ان کا نجات دہندہ ظاہر ہوگا۔
اَ ب ہم ایک بہت ہی دلچسپ حقیقت دیکھتے ہیں۔ یہودیوں کے لیے خصوصی تفویض کے طور پر 2300 دنوں/سالوں میں سے ستر ہفتوں(یا 490 سال) کو الگ کر دیا گیا تھا، اور مسیح کے آنے کے لیے اُنہتر ہفتے (یا 483 سال) کی پیشینگوئی کی گئی تھی۔ 27 عیسوی میں اُنہترہفتے ختم ہوئے اور
ایک ہفتے بعد (یا سات سال) یہودیوں کے لیے مختص وقت 34 عیسوی میں ختم ہو گیا، اسی سال اسرائیل کی قوم کے لیے آزما ئشی مُدت ختم ہو گئی۔ اُنہوں نے اپنے مسیحا کو ردّکر دیا تھا اور سِتفُنس کو سنگسار کر کے ہلاک کر دیا تھا۔ سِتفُنس کی شہادت کے اس وقوعہ سے، ایک تبدیل شدہ ساؤل کو غیر قوموں کے لیے رسول کے طور پر بھیجا گیا۔ اُس نے اعلان کیا کہ "کہ ضرور تھا کہ خُدا کا کلام پہلے تُمہیں سُنایا جا ئے لیکن چونکہ تُم اُس کو ردّ کرتے ہو اور اپنے آپ کو ہمیشہ کی زِندگی کے نا قابِل ٹھہراتے ہو تو دیکھو ہم غیر قوموں کی طرف مُتوجِّہ ہوتے ہیں۔" (اعمال ۴۶:۱۳)۔
اَب خصوصی توجہ اُس سترویں ہفتے پر مرکوز ہونی چاہیے، جو مسیح کے بپتسمہ سے لے کر یہودیوں کے مسترد ہونے تک سات سال کا عرصہ تھا۔ ایک بہت ہی اہم واقعہ سترویں ہفتے کے وسط کی نشاندہی کرنا تھا۔ جبرائیل نے دانی ایل کے سامنے یہ بیان کرتے ہوئے اپنی وضاحت جاری رکھی کہ ممسُو ح کب قتل کیا جائے گا۔ اس نے کہا، "اور وہ ایک ہفتہ کے لیے بہتوں سے عہد قائم کرے گااور نِصف ہفتہ میں ذبیحہ کو مَوقوف کرے گا۔" (دانی ایل۲۷:۹ )۔
یہ سب تسلیم کرتے ہیں کہ "یسُوع نے پِھر بڑی آواز سے چِلاّ کر جان دی ۔ اور مَقدِس کا پردہ اُوپر سے نیچے تک پھٹ کر دو ٹکڑے ہو گیا۔" (متی۲۷ با ب ۵۰ تا ۵۱ )اِسی طرح یہ قُربانی کے نظام کے خاتمے کی طرف اشارہ ہے۔ جو تمام رسمیں جو آنے والی چیزوں کا سایہ تھیں اُن کی تکمیل ہو گئی ۔ چونکہ حقیقی برّہ اَب پیش کیا گیا تھا اور سائے ( مزید قُربانیوں ) کی ضرورت نہیں تھی۔ چنانچہ یسُوع کو ہفتے کے وسط میں قتل کیا جانا تھا تاکہ قربانیوں سلسلہ بند
ہو جائے۔ یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ ان سات سالوں کا درمیانی حصّہ دونوں طرف سے ساڑھے تین سال کا ہو گا۔ دوسرے لفظوں میں ۔ یہ کے درمیان بالکل آدھے راستے پر ہوگا کیا یسُوع اس وقت مر گیا تھا؟ عیسوی 27 اور 34 عیسوی کے نِصف میں ممسُوح فرمانروا کو مصلُو ب ہونا تھا ،کیا یسُوع اس مقررہ وقت پر مر گیا تھا؟ یہ ایک تاریخی واقعہ اور مسلمہ حقیقت ہے کہ دُوسرے الفا ظ میں مسیح بپتِسمہ پانے کے بعد صرف ساڑھے تین سال منادی کے لیے زندہ رہے او ر 31 عیسوی میں اُنہیں مصلُوب کیا گیا ۔صحیفوں میں سب سے زیادہ درُست پیشینگوئیوں میں سے اِس ایک کی کتنی حیرت انگیز تکمیل ہے! جیسا کہ پیشینگوئی کی گئی تھی، کہ وہ ممسوح فرمانروا ( مسیحا) یروشلم کی تعمیر نو کے حکم کے صادر ہونے سے 483 سال بعد ظاہر ہوا۔
بعض نے سترویں ہفتہ کو پیشینگوئی کے پچھلے اُنہتر ہفتوں سے الگ کرنے کی کوشش کی ہے، اِسے آیندہ مستقبل کی طرف دھکیل دیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ اُنہترویں ہفتے اور سترویں ہفتے کے درمیان 2000 سال کا فرق ہے۔ وہا ں اس طرح کے داو پیچ کی کوئی بائبل کی بنیاد نہیں ہے،لیکن اِس طرح سے اِس مسیحی پیشینگوئی کا یہ خوبصورت مسیحائی پیغام تقریبا بے معنی ہو جائے گا۔سترویں ہفتہ کا مسیح کی آمد سے پہلے اِیماندارو ں کا خفیہ اُٹھایا جانا یا مخالف ِ مسیح کے کام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ستر ہفتوں کے ایک حصے کے طور پر، اس نے قومی اِسرائیل کے لیے مسیحا کے ساتھ تعلق کے حوالے سے آزمائش کی مدت کو نشان زد کیا۔ قومی اسرائیل سے منسُوب کردہ سال بہت پہلے پورے ہو چکے ہیں۔ نجات دہندہ کو سترویں ہفتے کے وسط میں مصلُوب کر دیا گیا تھا، اور یہودیوں کو ایک قوم کے طور پر مسترد کر دیا گیا تھا۔
1844 میں مَقدِس کو صاف کیا گیا
ہم نوٹ کرتے ہیں کہ 1810 سال کا بقیہ وقت ہمیں 2300 سال کی پیشینگوئی کے اختتام تک پہنچاتا ہے۔دانی ایل کی پیشینگوئی کے مطابق آخری سال 1844 عیسوی ہے، یہ مَقدِس کو پاک کرنے کی تاریخ ہے۔نبی کو بڑی بے صبری سے توقع کی تھی کہ یروشلم ہیکل میں یوم ِ کفارہ کی سالانہ خدمات کو بحال کیا جائے گا، لیکن اب وہ دیکھ سکتا تھا کہ جبرائیل نے اسے مستقبل میں صحیح طریقے سے بیان کیا۔جس سے یہ ظاہر تھا کہ پیشینگوئی مسیح کے آنے سے آگے کئی سو سال پر محیط تھی۔
لیکن اب ہمیں ایک پیچیدہ سوال کا سامنا ہے۔ 1844 میں مَقدِس کے پاکترین مکان سے گناہ کے ریکارڈ کو کیسے پاک کیا جا سکتا تھا؟ تاریخ بتاتی ہے کہ اس زمانے میں کوئی زمینی خیمہ گاہ موجود نہیں تھا۔یہ مسلمہ حقیقت ہے ! زمینی ہیکل کو آخری بار 70 عیسوی میں مسمار کر دیا گیا تھا۔ لیکن کیا زمینی ہیکل کے علاوہ کوئی اور پناہ گاہ تھی؟ درحقیقت، موسیٰ نے آسمانی مَقدِس کے نمونہ سے زمینی کو نقل کیا تھا۔ یہ حقیقی خیمہ تھا، اور یہ اتنا ہی حقیقی تھا جتنا کہ آسمانی مَقدِس کے دو کمروں کی نقل جسے اسرائیل نے بیابان میں کھڑا کیا تھا۔ لہذا، یہ آسمانی مَقدِس ہی تھا جو 1844 میں صاف کیا گیا تھا۔ کیونکہ آسمانی چیزوں کے عکس اور سایہ کے مُطابق ، سردار کاہن کو مَقدِس کے پاکترین مکان میں سال میں ایک بار اہم دینی فریضہ کے دوران حتمی کفارہ یا عدالت کا کام پورا کرنا ہوتا تھا۔اصل چیزوں
کی تکمیل کے لیے حقیقی سردار کاہن، یعنی یسوع کو وہاں آسمانی طرز کےمَقدِس میں وہی کام سر انجام دینے کی ضرورت تھی۔
عبرانیوں کی کتاب ہمیں یقین دلاتی ہے کہ جو کچھ زمِینی مَقدِس میں پیش گوئی کی گئی تھی وہ آسمانی مَقدِس میں آسمانی سردار کاہن کے ذریعہ انجام دی جانی چاہئے تھی۔ "ہمارا اَیسا بڑا سردار کاہن ہے جو آسمانوں پر کبِریا کے تخت کے دہنی طرف جا بیٹھا ۔ اور مَقدِس اور اُس حقیقی خَیمہ کا خادِم ہے جِسے خُدا وند نے کھڑا کیا ہے نہ کہ اِنسان نے۔" ( عبرانیوں ۸ باب ۱ تا ۲ آیات )۔
یہاں ایک اہم سوال ہے: کیا زمِینی مَقدِس میں مقرر کردہ خدمات کا تعلق اُس کام سے تھا جو یسُوع آسمانی ہیکل میں سرانجام دیں گے؟ عبرانیوں کامصنّف اُن لاوی کاہنوں کے کام کا یوں بیان کرتاہے"جو آسمانی چیزوں کی نقل اور عکس کی خِدمت کرتے تھے چُنانچہ جب مُوسیٰ خَیمہ بنانے کو تھا تو اُسے یہ ہدایت ہُو ئی کہ دیکھ! جو نمُونہ تُجھے پہاڑ پر دِکھایا گیا تھا اُسی کے مُطابق سب چیزیں بنانا۔" ( عبرانیوں ۵:۸)۔
یہاں الہامی مصنّف وضاحت کرتا ہےکہ کیوں خُدا نے موسیٰ سے اُس نمونہ کو احتیاط سے نقل کرنے کا مطالبہ کیا جو پہاڑ پر دِکھایا گیا تھا۔ زمِینی مَقدِ س کوباپ کے سامنے مسیح کی خدمت کی "مثال اور سائے" کے طور پر کام کرنا تھا۔ یہاں زمِینی مَقدِس کے پاک مکان اور پاکترین مکان میں کاہن کی خدمت کا مشاہدہ کرنے سے، لوگ مسیح کے آسمان پر واپس جانے کے بعد اس کے خصوصی شفاعت کے کام کو سمجھیں گے۔ عبرانیوں 9: 1-10 میں ہم بہت
تفصیل سے پڑھتے ہیں کہ کس طرح روزانہ کی خدمت اور سال میں ایک بار صفائی کی خدمت زمِینی مَقدِس میں کی جاتی تھی، جو آسمانی مَقدِس کیاایک نمونہ اور عکس تھی۔ یہاں،یوم کفارہ کے دِن سال میں ایک بار سردار کاہن کے خصوصی داخلے کو بیان کرتے ہو ئے، پولس رسُول نے لکھا: "اِس سے رُوح القُدس کا یہ اِشارہ ہے کہ جب تک پہلا خیمہ کھڑا ہے پاک مکان کی راہ ظاہر نہیں ہُو ئی۔" (عبرانیوں ۸:۹)۔
یہ آیت واضح طور پر کہہ رہی ہے ،کہ حقیقی آسمانی مَقدِس میں مسیح کی خدمت صرف اس وقت شروع ہو گی جب تک زمینی مَقدِس ایک مثال اور نمونہ کے طور پر اپنے مخصوص کام کو پورا کر لے۔ جب وہ اُوپر آسمان پرگیا ،تویسُوع آسمانی مَقدِس کے پہلے حصّہ یعنی پاک مکان میں داخل ہوا جیسا کہ یوحنا کی وضاحت میں یسُوع کو چراغدانوں کے درمیان چلتے ہو ئے دِکھایا گیا ہے( مکاشفہ ۱۳:۱ )۔
یہ زمِینی ہیکل کے پاک مکان کی خدمت کی مثال کو پُورا کرتا ہے۔ اِس لیے جب یسُوع آسمانی مَقدِس میں داخل ہُوا ، "اور بکروں اور بچھڑوں کا خُون لے کر نہیں بلکہ اپنا ہی خُون لے کر پاک مکان میں ایک ہی بار داخِل ہو گیا اور اَبدی خلاصی کرا ئی۔" ( عبرانیوں ۱۲:۹)۔
لیکن جس طرح حتمی طور پر اُ س نے پاک مکان کے اندر روزانہ کی خدمت کی طرز کو پورا کیا، اُسی طرح مسیح کو پاک ترین مکان کی شفاعتی خدمت کی مثال کو پورا کرنا چاہئے۔ پولس نے لکھا: "یہ نہیں کہ وہ اپنے
آپ کو بار بار قُربان کرے جِس طرح سردار کاہن پاک مکان میں ہر سال دُوسرے کا خُون لے کر جاتا ہے۔ ورنہ بنایِ عالَم سے لے کر اُس کو بار بار دُکھ اُٹھانا ضرُور ہوتا مگر اَب زمانوں کے آخر میں ایک بار ظاہر ہُوا تاکہ اپنے آپ کو قُربان کرنے سے گُناہ کو مِٹادے ۔ اور جس طرح آدمیوں کے لئے ایک بار مَرنا اور اُس کے بعد عدالت کا ہونا مُقرّر ہے۔ اُسی طرح مسیح بھی ایک بار بُہت لوگوں کے گُناہ اُٹھانے کے لئے قُربان ہو کر دُوسری بار بغَیر گُناہ کے نِجات کےلئے اُن کو دِکھائی دے گا جو اُس کی راہ دیکھتے ہیں۔" ( عبرانیوں ۲۸-۲۵:۹)۔
اس لفظ "عدالت" کے تعلق کو نظر انداز نہ کریں جو یسُوع پاکترین مکان میں سر انجام دیتا ہے۔ اُسے ہر سال جانے کی ضرورت نہیں تھی بلکہ صرف ایک بار "دُنیا کے آخر میں"۔ گناہ کے ریکارڈ سے آسمانی خیمہ گاہ کو صاف کرنے کے لیےاس زمینی قسم کے کفارہ کے دن کے عکس اور سایہ کو پورا کرنے کے لئے بالکل ضروری تھا۔ اس سلسلے میں بائبل مُقدّس کا بیان نہایت صریح اور ناقابل تردید ہے۔ "اور تقریبا ً سب چیزیں شریعت کے مُطابق خُون سے پاک کی جاتی ہیں اور بغَیر خُون بہا ئے مُعافی نہیں ہوتی ۔ پس ضرور تھا کہ آسمانی چیزوں کی نقلیں تو اِن کے وسِیلہ سے پاک کی جا ئیں مگر خُود آسمانی چیزیں اِن سے بہتر قُربانیوں کے وسِیلہ سے ۔ کیونکہ مسیح اُس ہاتھ کے بنا ئے ہو ئے پاک مکان میں داخِل نہیں ہُوا جو حقیقی پاک مکان کا نمونہ ہے بلکہ آسمان ہی میں داخل ہُوا تاکہ اب خُدا کے رُوبرُو ہماری خاطر حاضر ہو ۔" ( عبرانیوں ۹ باب ۲۲ تا ۲۴ آیات ) وضاحت کیا گیا ہے۔
اِس کی کیا ضرورت تھی؟ کہ آسمانی نمونوں کو اسی طرح صاف کیا جائے جس طرح زمینی کو پاک کیا گیا تھا۔ لیکن کس چیز سے پاک کیا جانا تھا؟ یقینا ً گُناہ کا ریکارڈ۔ یہ ریکارڈ زمِینی خیمہ میں چھڑکے ہوئے خُون کے ذریعے درج کیاگیا تھا۔ یہ آسمانی مَقدِس میں مکاشفہ ۱۲:۲۰ کی اُس عظیم عدالت کے منظر نامہ میں بیان کردہ کتابوں کے ذریعے اندراج کیا گیا ہے، "۔۔۔ اور کتابیں کھولی گئیں ۔پِھر ایک اَور کِتاب کھولی گئی یعنی کِتابِ حیات اور جِس طرح اُن کِتابوں میں لِکھا ہُوا تھا اُن کے اعمال کے مُطابق مُردوں کا اِنصاف کیا گیا ۔"
زمِینی مَقدِس میں سے گُناہوں کے ریکارڈ کو کب ختم کیا جاتا تھا ؟ کفارہ کے سالانہ دن، یا یوم کفارہ پر، اور اسے عظیم عدالت کا دن کہا جاتا تھا۔آسمانی مَقدِ س کب پاک ہوتا ہے؟ یہ اس وقت پاک کیا جائے گا جب مسیح ہمارا کاہن اعظم آسمانی مَقدِس کے پاکترین مکان میں تشریف لے جائے گا ۔ پیشینگوئی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ صفائی کب ہوگی؟ "اور اُس نے مُجھ سے کہا، دو ہزار تین سو صُبح و شام تک اُس کے بعد مَقدِس پاک کیا جائے گا۔" (دانی ایل 14:8)۔۔ بغیر کسی سوال کے ہم نے ثابت کیا ہے کہ 2300 دن/سال کی پیشینگوئی 1844 عیسوی میں ختم ہو گئی تھی، کتنا پختہ خیال ہے کہ موجودہ زمانے میں ہم عدالت کےوقت میں جی رہے ہیں!مسیح اَب بطور سردار کاہن اپنے پاکترین ترین مکان کی خدمت میں داخل ہو چکا ہے، اور عدالت کے اس وقت کے دوران ہر فرد کے زیر سماعت مقدمہ میں اُس کے ریکارڈ کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔
کو ئی پوچھ سکتا ہے کہ مسیح کے ظہور سے پیشگی عدالت کا ہونا کیوں ضروری ہے۔ پولس نے یہ کیوں اعلان کیا کہ "پس ضرور تھا کہ آسمانی چیزوں کی نقلیں تو اِن کے وسِیلہ سے پاک کی جا ئیں مگر خُود آسمانی چیزیں اِن سے بہتر قُربانیوں کے وسِیلہ سے ۔" کیونکہ گناہ کے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کی جانی چاہیے تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ کون نجات پائے گا۔ یاد رکھیں کہ، "کتابوں میں لِکھے ہو ئے اعمال کے مُطابق مُردوں کا اِنصاف کیا گیا ۔" یہاں تفتیشی عدالت کوپہلے ہونا چاہیے اِس سے پہلے کہ وہ سزا پر عمل درآمد کرانے آتا ہے۔اُس کی آمد پر اُ س کی جلالی تجلّی سے بدکار ہلاک ہو جاتے ہیں ۔اس وقت بچائے گئے اور کھوئے ہوئے کے درمیان علیحدگی ہو جاتی ہے۔ظاہر ہے کہ اس وقت سے پہلے کتابوں کی چھان بین کرنا ضروری تھی تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کون بچ جائے گا اور کون کھو گیا ہے۔
جب یسُوع پاکترین مکان سے نکلتا ہے تو آخری کفارہ کا کام پُوراہو جاتا ہے۔ دُنیا کو دیا گیا آزما ئشی وقت بند ہو جاتا ہے ، جیسا کہ یہ یہودیوں کے لیے کفارہ کے دن بند ہو جاتا ،جب سردار کاہن زمینی مَقدِس میں اپنا کام ختم کرنے کے بعد باہر نکل آتا تھا۔ پھر مسیح اپنے کاہن کے لباس کو ایک طرف رکھ دے گا اور اپنا بادشاہی لباس پہنے گا۔ پھرشاہی حُکم نامہ جاری ہوتا ہے۔ "جو برا ئی کرتا ہے وہ برا ئی کرتا جا ئے اور جو نجِس ہے وہ نجِس ہی ہوتا جا ئے اور جو راست باز ہے وہ راست بازی ہی کرتا جا ئے اور جو پاک ہے وہ پا ک ہی ہوتا جا ئے۔" ( مکاشفہ ۲۲ باب ۱۱ تا ۱۲ آیات )
"اُسی طرح مسیح بھی ایک بار بُہت لوگوں کے گُناہ اُٹھانے کے لیے قُربان ہو کر دُوسری بار بغیر گُناہ کے نجات کے لیے اُن کو دِکھا ئی دے گا جو اُس کی راہ دیکھتے ہیں۔" اس وقت، وہ ہمارا گناہ اٹھانے والا نہیں ہوگا۔ ثالث کے طور پر اس کا کام ختم ہو جائے گا۔ اُس کا اجر اُس کے ساتھ ہو گا، اور وہ کتابوں کے ذریعہ کی گئی عدالت کے فیصلے پر عمل درآمد کرنے کے لیے "بغیر گناہ کے" آئے گا۔
پھر، 1844 سے یسُوع مسیح کیا کام کیا رہا ہے؟ دانی ایل نے ڈرامائی منظر کو ان الفاظ میں بیان کیا: "میرے دیکھتے ہُو ئے تخت لگا ئے گئے اور قدِیم ُ الایاّم بیٹھ گیا۔ اُس کا لِباس برف سا سفید تھا اور اُس کےسر کےبال خالِص اُون کی مانِند تھے۔ اُس کا تخت آگ کے شُعلہ کی مانِند تھا اور اُس کے پہیے جلتی آگ کی مانِند تھے۔ اُس کے حضُور سے ایک آتشی دریا جاری تھا ۔ہزاروں ہزاراُس کی خدمت میں حاضِر تھے اور لاکھوں لاکھ اُس کے حضُور کھڑے تھے۔ عدالت ہو رہی تھی اور کِتابیں کُھلی تھیں۔" (دانی ایل ۷ باب ۹ تا ۱۰ آیات)۔
اَب جب کہ عدالت کا یہ تفتیشی مرحلہ ہو رہا ہےآپ اور میں شخصی طور پر وہاں موجود نہیں ہوں گے۔ یہ سب کتابوں میں درج ریکارڈ سے ہوتا ہے۔ یہ ابھی جاری ہے۔ جلد - بہت جلد -آخری کیس پر غور کیا جائے گا، گناہ کا آخری ریکارڈ نامہ اعمال سے مٹا دیا جائے گا۔ پھر، تحقیقات صرف زندگی کی کتاب پر توجہ مرکوز کر سکتی ہے، "اور جس کسی کا نام کِتابِ حیات میں لِکھا ہُوانہ مِلا وہ آگ کی جھیل میں ڈالا گیا ۔" (مکاشفہ۱۵:۲۰)۔ وضاحت کیا گیا ہے۔یہاں دانی ایل نے اظہار کیا، “ اور اُس وقت مِیکا ّئیل مُقرّب فرِشتہ جو تیری قَوم کے فرزندوں کی حمایت کے لیے
کھڑا ہے اُٹھے گا اور وہ اَیسی تکلِیف کا وقت ہو گا کہ اِبتدایِ اقوام سے اُس وقت تک کبھی نہ ہُوا ہو گا اور اُس وقت تیرے لوگوں میں سے ہر ایک جِس کا نام کِتاب میں لِکھا ہو گا رہا ئی پا ئے گا۔" (دانی ایل ۱:۱۲)۔ وضاحت کیا گیا ہے۔
پوری بائبل مُقدّس میں دانی ایل 7 باب کی اِس کمرہ عدالت کی تفصیل سے زیادہ ڈرامائی منظر کوئی نہیں ہے۔ باپ کے عظیم جلالی تخت کی خوفناک شان و شوکت اور اُس کی عظمت اورقدِیم ُ الایاّم مَقدِس میں تخت پر براجمان ہے اُس کا غلبہ ہے، کتابیں کُھلی ہیں اور عدالت کا منظر ہے۔ ہزاروں فرشتے گواہ بن کر کھڑے ہیں۔ پھر آیت 13 میں، دفاعی وکیل کو ان لوگوں کی نمائندگی کے لیے لایا گیا ہے جن کے ریکارڈ کی جانچ کی جائے گی۔ "پِھر دانی ایل نے رویا میں دیکھا کہ ایک شخص آدم زاد کی مانِند آسمان کے بادلوں کے ساتھ آیا اور قدِیم ُ الایاّم تک پُہنچا۔ وہ اُسے اُس کے حضُور لا ئے ۔" (دانی ایل ۱۳:۷)۔
اِس "مَقدِس کی صفائی" کی عدالت میں کس کے ناموں پر غور کیا جائے گا جو اَب آسمان کے تخت کے کمرہ عدالت میں چل رہی ہے؟ وہ سب جنہوں نے مسیح کے ساتھ وفاداری کا اقرار کیا اور جن کے نام کِتاب ِ حیات میں مندرج ہیں ۔ پولس نے اپنے وفادار ہم خدمت ساتھیوں کے بارے میں لکھا کہ، "جن کے نام کِتاب حیات میں درج ہیں۔" ( فلپیوں ۳:۴)۔ یوحنا عارف یہ بات بالکل واضح کرتا ہے کہ دوسری کتابوں کی بھی چھان بین کی جانی ہے، "اور کتابیں کھولی گئیں: پِھر ایک اور کِتاب کھولی گئی،یعنی کِتاب ِ
حیات اور جس طرح اُن کِتابوں میں لِکھا ہُوا تھا اُن کے اعمال کے مُطابق مُردوں کا اِنصا ف کیا گیا۔" (مکاشفہ ۱۲:۲۰)۔
یہاں کتابوں میں اُن تمام اشخاص کی زندگی کا ریکارڈ موجود ہےجنہوں نے مسیح کی نجات بخش خوبیوں کا دعویٰ کیا ہے۔ پروبیشن بند ہونے سے پہلے زندہ رہنے والے پہلے اِنسان سے لے کر آخری شخص تک، اُن کے اقرارکا موازنہ الفاظ، خیالات اور اعمال کے ریکارڈ سے کیا جاتا ہے۔میرے آقا یسُوع مسیح نے خودفرمایا، "جو مُجھ سے اَے خُداوند ! اَے خُداوند!کہتے ہیں اُن میں سے ہر ایک آسمان کی بادشاہی میں داخل نہ ہوگا مگر وہی جو میرے آسمانی باپ کی مرضی میں داخل نہ ہو گا مگروُہی جو میرے آسمانی باپ کی مرضی پر چلتا ہے۔" ( متی ۲۱:۷)۔ وضاحت کیا گیا ہے۔
چاہے گناہوں کا اعتراف کر لیا گیا ہو اور چھوڑ دیا گیا ہواب کتابیں خوفناک درُستگی کے ساتھ انکشاف کرتی ہیں۔ وہ لوگ جنہوں نے مسیح کو اُس کے تمام نجات بخش ایمان اور پاکیزگی کے ساتھ قبول کیا ہے اُن کے نام کتابوں میں معافی شدہ لوگوں کے طور پر لکھے گئے ہیں۔ حتمی کفارہ کے اس کام میں اَب گناہوں کے اِس ریکارڈ کو مٹا دینا چاہیے اور ان کے ناموں کو کتابِ حیات میں درج ہوناچاہیے، ورنہ اُن کے نام کتابِ حیات سے مٹا دیے جائیں گے اور ان کے گناہ یااعمال نامہ کی کتاب میں محفوظ ہیں۔یوحنا عارف نے لِکھا، "جو غالب آ ئے اُسے اِسی طرح سفید پَوشاک پہنا ئی جا ئے گی اور مَیں اُس کا نام کِتاب ِ
حیات سے ہر گِز نہ کاٹُوں گا بلکہ اپنے باپ کے فرِشتوں کے سامنے اُس کے نام کا اِقرار کرُوں گا۔"( مکاشفہ۵:۳ )۔
آئیے اس تفتیشی عدالت کے آغاز کی تصویر کشی کریں کیونکہ یہ ہاؔبل کے مُقدمہ پر مرکوز ہے، جو مردوں میں مرنے والا پہلا وفادار تھا۔ جب اس کے نام پر غور کیا جاتا ہے تو اس کے گناہوں کا ریکارڈ کتابوں میں ظاہر ہو جاتا ہے، لیکن ہر ایک میں لفظ "معاف شدہ" پایا جاتا ہے۔ ہابؔل کو آنے والے نجات دہندہ پر یقین تھا اور اس نے گناہ کی قربانی کے لیے برّہ لا کر اس ایمان کو ظاہر کیا تھا۔ یسُوع، وکیل، باپ کے سامنے پیش قدمی کرتاہے، اپنے ہاتھ بڑھاتا ہے، اور وفادار ہاؔبل کے لیے اپنا خون پیش کرتا ہے۔ اس کے گناہوں کی دستاویز کویادگاری کی کتاب سے مٹایا جاتا ہے اور اس کا نام زندگی کی کتاب میں برقرار رہتا ہے۔
ا گلا نام جو شاید قا ئن کا ہو، جس نے نجات دہندہ پر ایمان کا اقرار تو کیا۔ اس کے گناہ بھی نامہ اعمال میں درج ہیں لیکن اُن گناہوں کے علاوہ معافی کا کوئی اندارج نہیں ہے۔ قا ئن نے اپنےالٰہی متبادل پر ایمان نہیں دکھایا۔ وہ ایک برّہ کی بجائے، وہ اپنے باغ سے پھل اور سبزی لایا، اور "خون بہائے بغیر معافی نہیں ملتی۔" شفاعت کرنے والا وکیل قا ئن کی طرف سے آگے بڑھنا نہیں چاہتا ہے،لیکن وہ اس شخص کے لیے اپنے خون کو پیش نہیں کر سکتا جس نے اپنے نجات دہندہ کی کفارہ بخش مَوت کے علاوہ کسی اور طریقے سے قبولیت کی کوشش کی۔افسوس کی بات ہے کہ قا ئن کا نام کِتاب ِ حیات سے مٹا دیا گیا اور اس کے گناہ اعمال نامہ کی کتاب میں محفوظ ہیں۔
آسمانی مَقدِس کی صفائی کا یہ عمل 1844 سے جاری ہے اور یہ اِس وقت تک جاری رہے گا جب تک کہ عظیم سردار کاہن کھڑا ہو کر اعلان نہ کرے،"جو برا ئی کرتا ہے وہ برا ئی کرتا جا ئے اور جو نجِس ہے وہ نجِس ہی ہوتا جا ئے اور جو
راست باز ہے وہ راست بازی ہی کرتا جا ئے اور جو پاک ہے وہ پا ک ہی ہوتا جا ئے۔" (مکا شفہ ۲۲ باب ۱۱ تا ۱۲ آیات )۔ اُس وقت، زِندہ اور مُردہ دونوں کی تقدیر کا فیصلہ اسی عدالت کی بنیاد پرطے پا ئے گا اور مُہر کیا جا ئے گا۔
اِس خاص وقت میں ہمارا رویہ کیا ہونا چاہیے؟ جب ہمارے مقدمات آسمانی مسندِ عدالت میں زیرِ سماعت ہیں؟ اسرائیل میں یومِ کفارہ کے خاص دن کے دوران یہ اپنی جان کو دُکھ دینے، دُعا کرنے اور روزہ رکھنے اور دل کی اتھاہ گہرائیوں سے توبہ کرنے کا وقت ہوتا تھا۔ یقیناً یہ جذبہ آج کے اُن تمام لوگوں کی خصوصیت ہونی چاہی جو یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ہم کفارہ کے غیر مانوس دن میں رہ رہے ہیں۔ کامل کفارہ کی قربانی یسُوع مسیح کی مَوت میں کی گئی ہے۔ جب سے وہ آسمان پر واپس گیا ہےہمارے وفادار سردار کاہن کی طرف سے کامل معافی دی گئی ہے۔ اور یہ خدمت آج تک جاری ہے ۔ لیکن 1844 کے بعد سے آسمانی مَقدِس کے پاکترین مکان میں عدالت کے اِس کام کو آگے بڑھایا گیا ہے جو ہم میں سے ہر ایک کو متاثر کرتا ہے۔مَقدِس کی اس صفائی میں صرف وہی گناہ مٹائے جاسکتے ہیں جن کا اعتراف کرکے اُن کو ترک کیا گیا ہے۔یسُوع مسیح کابہا یا ہوا خُون ہی ہمارے اِیمان کی توثیق اور نِجات کی یقین دہانی دلا ئے گا۔ ہمارے وکیل نے کبھی کوئی مقدمہ نہیں ہارا۔ وہ کائنات کے رُوبرُو تیرے اور میرے گُناہ کی دستاویز کو مٹانے کے لیے پرعزم ہے،لیکن وہ صرف اُن لوگوں کے مُقدمات کی ذمہ داری اُٹھا سکتا ہے جو اُس کے کفارہ بخش خُون پر اِیمان رکھتے ہوں ۔ "پس جب کہ ہمارا ایک ایسا بڑا سردار کاہن ہے جو آسمانوں سے گُذر گیا
یعنی خُدا کا بیٹا یسُوع تو آوہم اپنے اقرار پر قائم رہیں۔ کیونکہ ہمارا اَیساسر دار کاہن نہیں جو ہماری کمزوریوں میں ہمارا ہمدرد نہ ہو سکے بلکہ وہ سب باتوں میں ہماری طرح آزمایا گیا تَور بھی بے گُناہ رہا۔پس آو ہم فضل کے تخت کے پا س دِلیری سے چلیں تاکہ ہم پر رَحم ہو اور وہ فضل حاصِل کریں جو ضرُورت کے وقت ہماری مدد کرے۔" ( عبرانیوں ۴ با ب ۱۴ تا ۱۶ن آیات )۔
یہ جان کر کتنا اطمینان اور حوصلہ ملتا ہے کہ ہمارا درمیانی واقعی ہمارے ساتھ ہے، ہمارے دفاع اور ہمارے حق میں خدمت کر رہا ہے۔ کیونکہ وہ کبھی ہماری انسانی فطرت کے ساتھ اس دُنیا میں ایک آدمی تھا، وہ ہماری آزما ئشوں اور ذہنی دباوکے لیے مکمل ہمدرد بنے کے قابل ہے۔آئیے ہم ان شاندار سچائیوں پر خوشی منا ئیں جو ہم نے اپنے طاقتور ترین دفاعی وکیل کے بارے میں سیکھی ہیں جو ، "ہماری شفاعت کے لیے زِندہ ہے" ور جو ابھی، اِسی وقت، آپ کے اورمیرے گناہوں کو مٹانے کے لیے اپنے کفارہ بخش خون کی خصوصیات کا دعویٰ کررہا ہے۔ کیا نجات دہندہ! کیا وکیل ہے! کیا دوست!


